شان مسیح موعود — Page 128
۱۳۸ شیخ صاحب کا اس جگہ یہ کہنا بھی درست نہیں کہ اس عبارت میں محض اور نئے خادم ہونے کہ وجہ فضیلت بیان کیا گیا ہے بلکہ وجہ فضیلت تو دراصل اس سے پہلی متصلہ عبارت میں مذکور ہے جو یہ ہے کہ :- وہ سمان پر بخدا تعالے کی غیرت عیسائیوں کے مقابل پر بڑا جوش مار رہی ہے۔انہوں نے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی شان کے مخالف وہ توہین کے الفاظ استعمال کئے ہیں کہ قریب ہیں کہ اُن سے آسمان پھٹ جائیں۔" پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضرت عیسی علیہ اسلام سے بڑھ کر ہونے کی وجہ اس عبارت میں عیسائیوں کے بالمقابل خدا کی وہ غیرت اور جوش قرار دیئے گئے ہیں تو عیسائیوں کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے نتیجہ میں ظاہر ہوئے۔اسی غیرت اور جوش کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اد نئے تصادم کے در جیر کو بلند کر کے حضرت علی سے علیہ اسلام سے افضل قرار دے دیا ہے اور خدا عیسے جب کسی کو کسی سے بہت بڑھ کر قرار دیتا ہے تو اسے در حقیقت فضل بنا بھی دیتا ہے۔تیسری شق میں شیخ صاحب نے حقیقۃ الوحی صفحہ 100 کی یہ عبارت نے الوی صفوراہا پیش کی ہے۔اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ جبکہ مجھ کو دنیا کی اصلاح کے لئے ایک مخدمت سپرد کی گئی ہے اس وجہ سے کہ ہمارا آق اول