شانِ خاتم الانبیأ ﷺ

by Other Authors

Page 13 of 17

شانِ خاتم الانبیأ ﷺ — Page 13

ملک میں روز بروز اسلام کا اثر و نفوذ بڑھتا جارہا تھا کہ الہ تعالی نے خود قریش مکہ کی معاہدہ شکنی کے نتیجہ میں ایسے غنی سامان پیدا کر دینے کہ خدا کا مقدس نبی دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ مکہ میں فاتحانہ شان کے ساتھ داخل ہو گیا۔یہ رمضان سنہ مطابق دسمبر کا واقعہ ہے۔اس موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام خونی اور خطرناک مجرموں کے لئے جنہیں دنیا کا کوئی قانون معاف نہیں کر سکتا تھا ، بے نظیر اور محیر العقول حلم ورحم سے کام لے کر عفو عام کا شاہی اعلان کر دیا۔یہ ایک بے مثال عملی تبلیغ تھی جس نے قریش مکہ کے عقیدہ کفرو شرک کو پاش پاش کرکے رکھ دیا۔اور اُن کی اکثریت ن ایک ہی دن میںمسلمان ہو کر آنحضو صلی للہ علیہ وقت کی بعیت کرلی خانہ کعبہ سے تین سو ساٹھ بنوں کو نکال کر پھینک دیا گیا۔ماحول کعبہ کے بت خانے منہدم کر دیتے گئے۔اور تمام جزیرہ نمائے عرب میں اسلام نہایت مسرعت کے ساتھ پھیلنے لگا۔فتح مکہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی کثرت کے ساتھ عرب کے مختلف حصوں اور علاقوں میں دین اسلام کی تبلیغ اور اشاعت کے لئے مبلغ اور واعظ روانہ فرمائے جنہوں نے ہر قبیلہ کا دورہ کر کے خدا کا پیغام پہنچایا۔ان تبلیغی مہمات کے نتیجہ میں قبول اسلام کے لئے اس کثرت سے مختلف قبائل کے وفود مدینہ آنے لگے کہ ملک کے ہر طرف يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ ازْوَاجًا کا ایسا نظارہ سامنے آگیا کہ چیم فلک نے اس سے پہلے کبھی اس کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی انقلاب انگیز شخصیت نے اسلام لانے والوں میں ایسی بجلیاں بھر دیں کہ وہ آپ کے بعد دیوانہ وار دنیا کے شرقی اور غربی ملک میں اسلام پھیلانے کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔اور ہر جگہ حق و صداقت کے جھنڈے گاڑ دیئے۔سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :۔" اب دیکھو کہ اس نبی کی کیسی بلندشان ہے جس نے تھوڑے سے عرصہ میں ہزاروں انسانوں کی اصلاح کی اور فساد سے صلاحیت کی طرف اُن کو منتقل کیا۔یہاں تک