شانِ خاتم الانبیأ ﷺ — Page 12
(۴) اصحو نجاشی ( ایسے سینیا کی عیسائی حکومت کا فرمانروا )۔اس پارسا بادشاہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وقت سے تبلیغی خط پر لبیک کہتے ہوئے اسلام قبول کر لیا۔نشہ میں اُس کا انتقال ہوا تو آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کو اس کی وفات پر الہاما اطلاع دی گئی اور آپ نے مدینہ میں اُس کا جنازہ غائب پڑھایا۔(۵) حارث بن ابی شمر والی غنستان - غستان کی ریاست عرب کے متصل جانب شمال واقع تھی۔یہ شخص اسلام سے محروم رہا۔موزہ بن علی نہیں یمامہ۔اس منکسر مزاج نے بھی دعوت اسلام کو ٹھکرا دیا۔(6) مندر تیمی۔فرمانروائے بحرین۔مندر تبلیغی خط پانے پر فور حلقہ بگوش اسلام ہو گیا۔محکمران کے مسلمان ہوتے ہی اس علاقہ کے تمام عرب بلکہ بعض مجھ بھی مسلمان ہو گئے۔(۸) حارث بن عبد کلال قبیلہ میر کا امیر کے نام کی ایک بینی و روانہ فریایالے (۹) عرب کے بعض قبائل مثلا عبد القیس، بکر اور تمیم بحرین کی وادیوں میں آباد قبائل انی کی کمی یا اللہ تم نے بینی خط مجھے جس کے اثر انگیز لفظ سےعبدالقیس کا پور قبیلہ مسلمان ہو گیا۔(۱۰) سی بخت (ریاست کا والیان نے بیان کیانی یا اسلام کو کیا۔اس کے علاوہ آنحضور نے عمان کے بادشاہ یمن کے قبیلہ بنی تہد اور قبیلہ ہمدان کے سٹرار بنی علیم کے سردار اور حضر می قبیلہ کے رؤسا کی طرف بھی خطوط لکھے جن میں سے اکثر مسلمان ہو گئے۔اس زمانہ میں قلوب و اذبان پر آسمانی فرشتوں کا اس کثرت سے نزول ہوا کہ عرب ریاستوں کے کئی فرمانروا از خود داخل اسلام ہو گئے۔مثلاً فروہ بن عم حاکم معان بجرير بنعبدالله بن بجلی قبیلہ بجلیہ کے فرمانروا ) عدی بن حاتم (قبیلہ طے کے حاکم ) ذی الکلاع جمیری دقبیلہ حمیر کے بادشاہ ہے ه سیرت ابن ہشام له سیرت النبی از شبلی جلد دوم