شیطان کے چیلے — Page 67
67 ظاہر ہے کہ آپ کے اس ارشاد اور اس خواہش کے تحت وہ لوگ نہیں آتے جو اختلاف زبان، کتب کے دستیاب نہ ہو سکنے، ان پڑھ ہونے یا ایسی ہی کسی مجبوری کی وجہ سے ان کا مطالعہ نہ کر سکتے ہوں۔کیونکہ وہ اس کے مکلف نہیں ہو سکتے۔اور جو مکلف نہ ہوا سے شریعت نے معاف رکھا ہے۔پس اس روایت کے اس زیر بحث فقرہ سے یہ نتیجہ نکالنا قطعی غلط ہے کہ جو آپ کی کتب کا تین بار مطالعہ نہیں کرتا اس کے ایمان میں آپ کو شبہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو ایمان میں مشبہ کا اظہار فرمایا ہے وہ اس شخص کے متعلق ہے جو باوجود مطالعہ کر سکنے کے غفلت یا تکبر وغیرہ کی وجہ سے عمداً آپ کی کتب کا مطالعہ نہیں کرتا۔کیونکہ اس روایت کا دوسرا فقرہ یہ ہے کہ جو ہماری کتب کا مطالعہ نہیں کرتا اس کے ایمان کے متعلق مجھے محبہ ہے۔“ اس فقرہ میں ایمان کے شبہ کے ساتھ صرف کتب کے مطالعہ کی شرط ہے۔تین بار کے مطالعہ کی شرط نہیں ہے۔پس ایسا شخص جو کسی مخفی یا ظاہری تکبر کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا عمداً مطالعہ نہیں کرتا، اس کے ایمان میں محبہ لازمی امر ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔وو وہ جو خدا کے مامور اور مرسل کی باتوں کو غور سے نہیں سنتا اور اس کی تحریروں کو غور سے نہیں پڑھتا اس نے بھی تکبر سے ایک حصہ لیا ہے۔“ ( نزول مسیح۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 304) لیکن اس کے برعکس وہ جو کسی بھی مجبوری کی وجہ سے آپ کی کتب کا مطالعہ کرنے سے قاصر ہے، اس کے ایمان میں طیبہ کا آپ نے بالکل ارشاد نہیں فرمایا۔اس پر دلیل آپ کا حسب ذیل عمومی ارشاد ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ ” سب دوستوں کے واسطے ضروری ہے کہ ہماری کتب کم از کم ایک دفعہ ضرور پڑھ لیا کریں۔کیونکہ علم ایک طاقت ہے اور طاقت سے شجاعت پیدا ہوتی ہے۔جس کو علم نہیں ہوتا، مخالف کے سوال کے آگے 66 حیران ہو جاتا ہے۔" ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 8) اس ارشاد میں آپ نے مطالعہ کی وجہ علم کا حصول بتائی ہے جو ہر احمدی کے لئے ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہش ہوتی تھی کہ آپ کی جماعت کے افراد ان روحانی خزائن سے مالا مال