شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 60 of 670

شیطان کے چیلے — Page 60

60 اگر سواد اعظم کے معنی یہ بھی مان لئے جائیں کہ جس طرف زیادہ ہوں تو ہر زمانہ کے سواد اعظم مراد نہیں بلکہ خیر القرون کا زمانہ مراد ہے جو غلبہ خیر کا وقت تھا ان لوگوں میں سے جس طرف مجمع کثیر ہو وہ مراد ہے نه كه ثم يفشو الكذب “ کا زمانہ۔یہ جملہ ہی بتا رہا ہے کہ خیر القرون کے بعد شر میں کثرت ہوگی (ماہنامہ البلاغ۔کراچی جولائی 1976ء صفحہ 59) راشد علی اور اس کا پیر چونکہ اپنے اعتراض میں جھوٹے ہیں اس لئے ان کو نہ ان لوگوں پر کبھی طیش آیا نہ ان پر کبھی انہوں نے کوئی اعتراض اٹھایا۔کیونکہ یہ سب خود اسی بات پر یقین رکھتے ہیں جو آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمائی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے واضح کر کے بیان فرمائی۔اسی بات پر عبدالحفیظ اینڈ کو، کا اپنا عمل شاہد ناطق ہے کہ جب یہ اسلام کی تعلیم کو چھوڑ کر اپنے خودساختہ اذکار کی مجالس میں ساری ساری رات سردھن دھن کر تھک جاتے ہیں تو خدا تعالیٰ سے دور کے دور ہی رہتے ہیں اور پھر راشد علی تو خود کہتا ہے کہ اس پر شیطان نازل ہوتا ہے۔الغرض اسی حالت کا نقشہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کھینچا اور بتایا کہ اگر خدا تعالیٰ سے انسان زندہ تعلق قائم نہ کر سکے تو مذہب کا کوئی فائدہ ہی نہیں لیکن اسلام ایک ایسا مذ ہب ہے جو انسان کو خدا تعالیٰ سے ملاتا ہے اور اس سے زندہ تعلق قائم کراتا ہے۔اس کے بالمقابل پیر عبدالحفیظ کا اسلام یہ ہے کہ اس کا لٹریچر قرآن کریم کی اتباع کے ذکر سے خالی اور نماز کے قیام کی تلقین سے عاری ہے۔اس کے برعکس اس کا سارا زور راتوں کو جاگ جاگ کر اس کے اپنے بنائے ہوئے اذکار میں سر دھننے پر ہے۔اس کا رسالہ الحفیظ عورتوں اور نو جوان دوشیزاؤں کے عریاں چہروں کی تصاویر سے مزین ہیں اور جیسا کہ ہم بار بار ثابت کر چکے ہیں، جھوٹ درجھوٹ سے پر ہیں۔آنحضرت ہو تو یہ دین لے کر نہیں آئے تھے جو آج عبدالحفیظ اور راشد علی پیش کر رہے ہیں۔اسی لئے آپ نے وہ پیشگوئیاں کیں جن کا اوپر ذکر آچکا ہے۔آنحضرت ﷺ کو خدا تعالیٰ نے پہلے سے بتا دیا تھا کہ ضلوا وأضلوا“ کے مصداق ایسے لوگ دین کو برباد کر دیں گے اور ایمان کو اس طرح دلوں سے نکال دیں گے کہ وہ ثریا ستارے پر پہنچ جائے گا اس کو دوبارہ لانے کے لئے ، دین کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے اور اسلام کو غلبہ سے ہمکنار کرنے کے لئے مہدی معہود اور مسیح موعود آئے گا۔یعنی آخری زمانہ میں دینِ