شیطان کے چیلے — Page 52
حال ہے کہ۔52 559 و مسیح ناصری را تا قیامت زنده فهمند مگر مدفون یثرب را نه دادند این فضیلت را کہ تم مسیح ناصری علیہ السلام کو قیامت تک زندہ سمجھتے ہو مگر مدفون میشرب محبوب کبریا حضرت محمد مصطفی ﷺ کو یہ فضیلت نہیں دیتے۔تم رسول خدا ﷺ سے کس محبت کا دعوی کرتے ہو؟ چنانچہ اسی تسلسل میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ حضرت مسیح کو اتنی بڑی خصوصیت ، آسمان پر زندہ چڑھنے اور اتنی مدت تک زندہ رہنے اور پھر دوبارہ اترنے کی جو دی گئی ہے اس کے ہر ایک پہلو سے ہمارے نبی ﷺ کی توہین ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کا ایک بڑا تعلق جس کا کچھ عدد حساب نہیں حضرت مسیح سے ہی ثابت ہوتا ہے مثلاً آنحضرت ﷺ کی سو برس تک بھی عمر نہ پہنچی مگر حضرت مسیح اب قریباً دو ہزار برس سے زندہ موجود ہیں۔اور صلى الله خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے چھپانے کے لئے ایک ایسی ذلیل جگہ تجویز کی جو نہایت متعفن اور تنگ اور تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی مگر حضرت مسیح کو آسمان پر جو بہشت کی جگہ اور فرشتوں کی ہمسائیگی کا مکان ہے بلا لیا۔اب بتلاؤ محبت کس سے زیادہ کی ؟ عزت کس کی زیادہ کی ؟ قرب کا مکان کس کو دیا اور پھر دوبارہ آنے کا شرف کس کو بخشا ؟“ (تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد 17 صفحه 205 حاشیه در حاشیه ) یہ عبارت خود بول رہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ کے لئے جس غیرت کا اظہار فرمایا ہے اور اس مضمون کو راشد علی نے نہ صرف از راه دجل چھپایا ہے بلکہ بڑی بے غیرتی سے عبارت کا ترجمہ بدل کر پیش کیا ہے اور اس بہانے ہمارے آقا ومولیٰ حضرت محمد مصطفی اللہ کی واضح تو ہین اور صریح گستاخی کی جسارت کی ہے۔اس عبارت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہ تو قبر کا ذکر فرمایا ہے اور نہ ہی وہاں تدفین کا کوئی ذکر کیا ہے۔لیکن یہاں ”چھپانے کا ترجمہ راشد علی نے از راہ فسق ودجل ” Bury“ کیا ہے۔ہم تو یہ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ کوئی شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بغض میں اس قدر بھی گندا اور گستاخ ہو سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے روضہ مبارک پر گندا چھالنے لگے۔نعوذ بالله من هذا المفترى الكذاب۔"