شیطان کے چیلے — Page 43
43 اے صاحب عقل ! غور کر کہ جب لوگ ایک شخص کو آسمان سے نازل ہوتا دیکھیں جب کہ اس کے ہاتھ میں ہتھیار ہو اور اس کے ساتھ ملائکہ بھی ہوں جو کہ ابتدائے دنیا سے غائب تھے جبکہ لوگ ان کے وجود کے بارہ میں شک کرتے تھے۔پس وہ نازل ہوں گے اور گواہی دیں گے کہ یقینا رسول سچا ہے۔اسی طرح لوگ آسمان سے خدا تعالیٰ کی آواز میں سنیں گے یقیناً مہدی خلیفہ اللہ ہے اور وہ لفظ ” کافر دجال کی پیشانی سے پڑھ لیں اور وہ دیکھ لیں کہ سورج مغرب سے طلوع ہوا ہے اور زمین پھٹ گئی ہے اور اس میں سے دآئبہ الارض نکلا ہے جس کے پاؤں زمین پر اور سر آسمان کو چھوتا ہے اور وہ مومن اور کافر کو نشان لگائے گا اور ان کی آنکھوں کے درمیان مومن یا کافر لکھے گا اور بلند آواز سے گواہی دے گا کہ اسلام سچا ہے اور حق کھل گیا ہے اور ہر طرف روشن ہو گیا ہے اور اسلام کی سچائی کے انوار ظاہر ہو گئے ہیں۔حتی کہ چوپائے ، درندے اور بچھو بھی اس کی سچائی پر گواہی دیں گے تو یہ کیسے ممکن ہو گا کہ ان عظیم الشان نشانیوں کو دیکھنے کے بعد سطح زمین پر کوئی کافر باقی رہ جائے یا خدا تعالیٰ کے بارہ میں اور اس گھڑی کے بارہ میں کوئی شک باقی رہ جائے۔پس حتی اور ظاہری علوم ایسی چیز ہیں کہ اسے کافر اور مومن ( یکساں) قبول کرتے ہیں اور جن کو انسانیت کے قومی عطا ہوئے ہیں ان میں سے کوئی ان کے بارہ میں اختلاف نہیں کرتا۔مثلاً جب دن چڑھا ہوا ہو اور سورج طلوع ہو چکا ہو اور لوگ بیدار ہوں تو اس سے نہ کوئی کافر اور نہ ہی کوئی مومن انکار کرے گا۔بالکل اسی طرح جب سب پر دے اٹھ جائیں اور متواتر گواہیاں موجود ہوں اور نشانات ظاہر ہو جائیں اور مخفی امور آشکار ہو جا ئیں اور فرشتے اتر آئیں اور آسمان کی آوازیں سنی جائیں تو ان ایام میں اور روز قیامت میں کیا فرق باقی رہ جائے گا اور انکار کرنے والوں کے لئے کیا مقررہ جائے گا؟ ایسی صورت میں تو لازم ہے کہ ان ایام میں سب کے سب کافر مسلمان ہو جائیں اور اس گھڑی کے بارہ میں کوئی شک باقی نہ رہے لیکن قرآن کریم نے بار بار بیان فرمایا ہے کہ کفار یوم قیامت تک اپنے کفر پر قائم رہیں گے وہ ساعة کے بارہ میں اپنے شک وشبہ میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ وہ گھڑی ایسی حالت میں اچانک آ جائے گی کہ انہیں اس کا شعور بھی نہ ہوگا اور لفظ بغتةً واضح طور پر یہ دلالت کر رہا ہے کہ یہ قطعی علامات جن کے بعد قیامت کے بارہ میں کوئی شک باقی نہ رہ سکے گا ، کبھی بھی ظاہر نہ ہوں گی اور نہ ہی اللہ تعالیٰ انہیں ایسے طور پر ظاہر کرے گا کہ سب پردے اٹھ جائیں اور وہ علامات قیامت کو دیکھنے کا یقینی آئینہ بن جائے بلکہ یہ معاملہ یوم قیامت تک نظریاتی ہی رہے گا۔یہ تمام