شیطان کے چیلے — Page 619
616 الرغم ان تفاسیر کوٹھکرا کر برنباس کی انجیل کا سہارا لے لیا ہے اور اپنے ایمان کی بنیاد اس پر ڈال لی۔اس کے بیان کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کو تو آسمان پر اٹھا لیا تھا۔یعنی وہ تو وقوعہ سے رخصت ہو کر آسمان پر جا بیٹھے جہاں سے بقول اس کے وہ واپس آئیں گے لیکن وہ شاید یہ بھول رہا ہے کہ یہی برنباس کی انجیل کہتی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب جھوٹے ہی آئیں گے۔چونکہ اس نے کلیہ تکیہ برنباس کی انجیل پر کیا ہے اس لئے اس کے مقدر میں جھوٹے ہی لکھے گئے ہیں۔سچے مسیح موعود کو مانے کی اس کو توفیق نہیں ملی۔اس کا وہ مزعومہ مسیح جس کو برنباس کی انجیل نے آسمان پر چڑھا کر اس کی واپسی کے دروازے بند کر دیے ہیں وہ اگر سچار ہنا چاہتا ہے تو زمین پر نہیں آسکتا اور اگروہ زمین پر آتا ہے تو وہ سچا نہیں رہ سکتا۔کیونکہ برنباس کی انجیل کے مطابق اب صرف جھوٹے ہی آئیں گے۔الیاس ستار لکھتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو اللہ تعالی نے تیسرے آسمان پر اٹھوا لیا اور یہودا اسکریوتی کی شکل ، حلیہ اور آواز حضرت عیسی جیسی بنادی یہاں تک کہ شاگرد بھی انہیں عیسیٰ ہی سمجھ رہے تھے۔66 حیرت ہوتی ہے ان لوگوں کی عقل پر اور ان کی منطق پر کہ بیسیوں حقائق کوٹھکرا کر برنباس کی انجیل کو ایسا چھٹے ہیں کہ عقل کے چراغ ہی گل کر بیٹھے ہیں۔بھلا جب خدا تعالی نے مسیح کو آسمان پر اٹھا لیا تھا تو کسی پر شکل ڈالنے اور اسے مروانے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا خدا تعالیٰ کو خوف تھا کہ یہود آسمان پر آجائیں گے اور مسیح کو وہاں پر بھی ماریں گے۔؟ جس شخص کو یہود نے صلیب پر مارا تھا اس پر تو مسیح کی شکل وصورت ڈال دی تھی اور اسی واسطے انہوں نے اس کو مار بھی دیا تھا تو ان کا ”انا قتلنا المسیح “ کہنا کیونکر غلط ہوا ؟ آخر وہ مسیح علیہ السلام کو ان کے جسم کی وجہ سے ہی جانتے تھے ( روح تو نظر نہیں آتی ) اور دنیا میں ہر بات کا فیصلہ ظاہری شکل سے ہی ہوتا ہے روح سے نہیں۔خدا تعالیٰ نے دوسرے شخص پر مسیح کی شکل ڈال کر اسے مصلوب کرا دیا تھا۔کیا خدا تعالیٰ نے خود یہود کے لئے گمراہی کے سامان کئے ؟ یعنی خدا تعالیٰ نے جس مسیح کو یہود کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا تھا