شیطان کے چیلے — Page 603
600 اگر اس عبارت کو اس عبارت کے سامنے رکھا جائے جو عیسائیوں کی طبع کردہ بائیبل سے اس نے اپنے دعوی کی دلیل کے طور پر پیش کی ہے۔تو صاف معلوم ہوتا ہے، کہ گو ان دونوں کےصرف الفاظ میں معمولی تبدیلی ہے لیکن قانون وہی ہے۔یعنی ان دونوں عبارتوں کے معانی مفہوم ، مطلب اور منطوق میں کوئی فرق نہیں۔Affront to God کے معانی ” خدا کے حضور ذلیل ورسوا کئے ہوئے“ کے ہیں۔اور ایسا شخص جو خدا تعالیٰ کی درگاہ میں ذلیل و رسوا ہو، اسے لعنتی یا ملعون ہی کہا جاتا ہے۔پس معانی ومطلب کے لحاظ سے عیسائیوں کی مطبوعہ بائیبل اور یہودیوں کی مطبوعہ بائیبل میں مذکور اس قانون میں کوئی فرق نہیں۔اس کا ایک قومی اور ٹھوس ثبوت یہ بھی ہے کہ یہودیوں کی شائع کردہ بائیبل کی تفسیر میں لکھا ہے۔"[AND IF THERE BE IN A MAN A SIN DESERVING THE JUDGEMENT OF DEATH] THOU SHALT HANG HIM ON A TREE- Our Rabbis said, All those who have to be put to death by stoning must afterwards hanged, for it is said here (v۔23) "for cursing of God in ends hanging"," (PENTATEUCH COMMENTARY-SHAPIRO, VALLENTINE & Co۔LONDON 1934) with۔۔۔RASHI'S ترجمہ :۔اور اگر کسی آدمی سے ایسا گناہ سرزد ہو، کہ جس کی سزا موت قرار پائے، تو تیرے لئے ضروری ہے کہ تو اسے درخت پر لٹکائے۔ہمارے ربی کہتے ہیں کہ جس کو تو سنگسار کر کے موت کے گھاٹ اتار دے، تو اس کے بعد اسے لڑکا نا تیرے لئے لازم ہے، کیونکہ تعلیم یہ ہے کہ خدا کی لعنت لٹکانے کے ساتھ پوری ہوتی ہے۔موسوی شریعت میں اس قدر حتمی تعلیم کے ہوتے ہوئے الیاس ستار کا اس سے انکار کرنا اور اسے پولوس کا قول قرار دینا ایک سفید جھوٹ ہی نہیں پرلے درجہ کی حماقت بھی ہے۔اس نے اپنی انگریزی دانی کا بھی ڈھنڈورا پیٹا ہے اس لئے یہ نہیں ہوسکتا کہ وہImpaled اور Affront to God کے معانی سمجھنے سے قاصر رہا ہو۔لیکن اگر ایسا ہے تو یہ اس کی جہالت کا ثبوت ہے۔ایسی صورت میں تو اس کو ایسے علمی معاملات میں دخل ہی نہیں دینا چاہئے تھا۔