شیطان کے چیلے — Page 565
561 کی کیا ضرورت تھی؟ کیا خدا تعالیٰ انہیں جان بوجھ کر گمراہ کرنا چاہتا تھا۔اس طرح تو گویا خدا تعالیٰ نے انہیں ہمیشہ کے لئے گمراہ کر دیا۔پھر یہود تو بے قصور ہوئے کیونکہ جب انہوں نے مسیح کو اپنے خیال میں صلیب پر قتل کر کے لعنتی ثابت کر دیا تو وہ کس طرح اسے سچا نبی قبول کر سکتے ہیں کیونکہ مصلوب کی شکل مسیح کی تھی اور ان کے گمان میں وہی مسیح تھا۔کیا تبدیلی شیبہ کے واقعہ کے بعد مسیح کا حلیہ بدل گیا تھا اور آپ کی شکل پہلی ہی نہ رہی تھی ؟ اگر نہیں رہی تھی تو اس کا کیا ثبوت ہے؟ vi قرب و محبت کا پتہ حفاظت سے چلتا ہے۔زیادہ محبوب و قیمتی چیز کی زیادہ حفاظت ہوتی ہے۔پھر خدا تعالی نے مسیح کو تو یہود کاہاتھ تک نہ لگنے دیا بلکہ آسمان پر اٹھالیا لیکن آنحضرت ﷺ بھی بھی ہوئے ، بیہوش ہوئے مگر خدا تعالیٰ نے انہیں نہ اٹھایا۔کیا اس سے مسیح کی افضلیت اور قرب الہی کی زیادتی ثابت نہیں ہوتی۔vii - قرآن کریم مسیح کو مشتبہ قرار دیتا ہے اور یہ اپنے غلط معنوں کو ثابت کرنے کے لئے اسے مشتبہ بہ بنا رہے ہیں۔ix۔یہود نے یہ نہیں کہا إِنَّا قتلنا رجلا۔یعنی کہ کومنتقل نہیں کہا بلکہ خاص طور پر مسیح بن مریم کے قتل کا دعوی کیا ہے۔یہود تو معرفہ کو مقتول کہتے ہیں مگر یہ ان کی طرف نکرہ کے قتل کا دعویٰ منسوب کرتے ہیں۔جب خدا تعالیٰ نے مسیح کو آسمان پر اٹھا لیا تھا تو پھر کسی اور پر شبیہ ڈالنے اور اسے مروانے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا خدا تعالیٰ کو خوف تھا کہ یہود آسمان پر آجائیں گے اور سیخ کو ماردیں گے؟ xi مسیح دن کو اٹھائے گئے یا رات کو ؟ اگر دن کو اٹھائے گئے تو کیا اتنے عظیم الشان واقعہ کا کوئی عینی شاہد ہے؟ xii اگر میخ کو رات کے وقت اٹھایا گیا تو کیوں؟ کیا خدا تعالیٰ کو ڈر تھا کہ دن کے وقت کہیں یہود مسیح کو آسمان پر جاتا نہ دیکھ لیں اور وہ بھی آسمان پر نہ پہنچ جائیں؟ خدا تعالیٰ مسیح کو اگر دن کے وقت آسمان پر لے جاتا اور سب کے سامنے لے کر جاتا تو کئی لوگ یہ معجزہ دیکھ کر ایمان لے آتے ورنہ کم از کم اتمام محبت تو ہو جاتی۔