شیطان کے چیلے — Page 564
560 ہر متنفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے پھر تم ہماری طرف لوٹ کر آؤ گے۔ہم اللہ کو کیوں انہیں صحہ 36) پھر اسی کتاب میں اس نے لکھا ہے: ” حضرت عیسی بالجسم اٹھائے گئے۔“ ہم اللہ کو کیوں مانیں صفحہ 136) یعنی رفع کا معنی اوپر اٹھا لینا لیا گیا ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام اگر بالجسم خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائے گئے تو وہ بغیر موت کے کس طرح خدا تعالیٰ کی طرف لوٹائے گئے ؟ جبکہ اللہ تعالیٰ نے خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ بعِیسَی إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَى۔۔۔۔۔( آل عمران:56) کم اے عیسی ! میں تجھے وفات دوں گا ( تیری روح قبض کروں گا ) اور پھر تیرا رفع کروں گا۔سید عبدالحفیظ نے آیت کریمہ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوهُ۔۔۔۔(آل عمران: 158 159 ) کا ترجمہ _4 یہ تحریر کیا ہے۔وو اور ہے یہ کہ نہ اسے قتل کیا اور نہ اسے سولی دی بلکہ ان کے لئے ان کی شبیہہ کا ایک بنادیا گیا اور وہ جو اس کے بارہ میں اختلاف کر رہے ہیں ضرور اس کی طرف سے شبہ میں پڑے ہوئے ہیں۔انہیں اس کی کچھ بھی خبر نہیں مگر یہی گمان کی پیروی اور بے شک انہوں نے اس کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا (ہم اللہ کو کیوں مانیں؟ صفحہ 136 ) لیا۔-i اس میں اس نے یہ جو لکھا ہے کہ ان کے لئے ان کی شبیہہ کا ایک بنادیا گیا۔تو سوال یہ ہے کہ پہچان کا دارو مدار شکل پر ہوتا ہے۔سو جب کوئی اور ان کی شبیہہ کا ایک بنادیا گیا اور انہوں نے اسی ہمشکل کو صلیب پر مار دیا تو ان کا دعویٰ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ بالکل صحیح ٹھہرا کیونکہ شکل ہی پہچان کا ذریعہ ہے روح تو نظر نہیں آتی۔یہودی آخر مسیح کی شکل ہی کے دشمن تھے۔-ii کیا خدا تعالیٰ نے ایک جعلی مسیح بنا کر ان کے لئے دھوکہ کے سامان کئے؟ ( نعوذ باللہ ) iii۔یہ تصور ہی نہایت مکروہ اور ذلیل ہے کہ کسی نبی کی شکل اس کے دشمن جیسی ہو حتی کہ اگر کسی کو یہ کہا جائے کہ ابو جہل کی شکل اور تیرے باپ کی شکل ایک جیسی ہے تو وہ غصہ سے بھر جائے گا تو یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ایک دشمن کی شکل خدا تعالی مسیح جیسی بنادے؟۔جب مسیح بیچ کر آسمان پر چلے گئے تو پھر کسی یہودی پر ان کی شبیہہ ڈالنے اور اسے صلیب پر مروانے