شیطان کے چیلے — Page 534
530 الاولياء لانه قائم بمظهريتها ـ ( شرح فصوص الحکم۔ہندی صفحہ 69) ترجمہ :۔حضرت نبی کریم ﷺ کا مشکوۃ باطن ہی محمدی ولایت خاصہ ہے اور وہی بجنسہ خاتم الاولیاء حضرت امام مہدی علیہ السلام کا مشکوۃ باطن ہے۔کیونکہ امام موصوف آنحضرت ﷺ کے ہی مظہر کامل ہیں۔اس عبارت میں بھی امام مہدی کو آنحضرت ﷺ کی صفات کا مظہر اور بروز قرار دیا گیا ہے۔نیز لکھا ہے: 66 المهدي الذي يجئي في آخر الزمان فانه يكون في الاحكام الشرعية تابعاً لمحمّد صلى الله عليه وسلّم وفى المعارف والعلوم والحقيقة تكون جميع الانبياء والأولياء تابعين له كلهم - ( شرح فصوص الحکم از علامہ عبدالرزاق قاشانی "53،52 مطبع مصطفی البابی الحلی مصری) ترجمہ :۔آخری زمانہ میں جو مہدی آئے گا وہ شرعی احکام میں تو محمد مصطفیٰ علیہ کے تابع ہوگا لیکن معارف، علوم اور حقیقت کے لحاظ سے آپ کے سوا تمام انبیاء اور اولیاء اس کے تابع ہوں گے اور اس کی وجہ وہ اگلے فقرے میں یوں بیان فرماتے ہیں لانّ بـاطـنـه بـاطـن محمد صلى الله عليه وسلّم کہ مہدی کا باطن حضرت محمد مصطفی ﷺ کا باطن ہو گا۔پھر حضرت شاہ ولی اللہ صاحب امت محمدیہ میں آنے والے مسیح و مہدی کے رسول اللہ ﷺ سے فنائیت کے مقام کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: منتسخة منه ، و حق له ان ينعكس فيه انوار سيّد المرسلين صلى الله عليه وسلّم ويزعم العامة انّه اذا نزل الى الارض كان واحداً من الامة كلاً بل هو شرح للاسم الجامع المحمّدى ونسخةً الخير الكثير - صفحه 72 مطبوعہ مدینہ پریس بجنور ) یعنی آنے والے مسیح موعود کا یہ حق ہے کہ اس میں سید المرسلین ﷺ کے انوار کا عکس ہو عام لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ جب وہ دنیا میں آئے گا تو وہ محض ایک امتی ہوگا ایسا ہر گز نہیں بلکہ وہ تو اسم جامع محمدی کی پوری تشریح ہو گا اور اس کا دوسر انسخہ (True copy) ہوگا پس اس میں اور ایک عام امتی کے درمیان بہت بڑا فرق ہوگا۔اسی طرح قاری محمد طیب صاحب مہتم دار العلوم دیو بند فرماتے ہیں: