شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 533 of 670

شیطان کے چیلے — Page 533

529 ہیں۔دوسری بار حضرت شیث علیہ السلام میں بروز کیا ہے اس طرح تمام انبیاء اور رسل صلوات اللہ علیہم میں بروز فرمایا ہے یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ اپنے جسد عنصری ( جسم ) سے تعلق پیدا کر کے جلوہ گر ہوئے اور دائرہ نبوت کو ختم کیا۔اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق میں بروز فرمایا ہے پھر حضرت عمر میں بروز فرمایا پھر حضرت عثمان میں بروز فرمایا۔اس کے بعد حضرت علی میں بروز فرمایا ہے۔اس کے بعد دوسرے مشائخ عظام میں نوبت به نوبت بروز کیا ہے اور کرتے رہیں گے حتی کہ امام مہدی میں بروز فرماویں گے۔پس حضرت آدم صلى الله سے امام مہدی تک جتنے انبیاء اور اولیاء قطب مدار ہوئے ہیں۔تمام روح محمد ﷺ کے مظاہر ہیں۔اور روح محمدی نے ان کے اندر بروز فرمایا ہے۔پس یہاں دو روح ہوئے ہیں ایک حضرت محمد ﷺ کی روح جو بارز ہے دوسری اس نبی یا ولی کی روح جو مبروز فیہ اور مظہر ہے۔( مقابیس المجالس۔اشارات فریدی حصہ دوم صفحہ 111 ،112 مولفہ رکن الدین مطبوعہ مفید عام پریس آگرہ) یہاں ان بزرگ صوفیاء نے لفظ ” بروز استعمال فرمایا ہے یعنی سب انبیاء آنحضرت ﷺ سے ہی ہیں، ان کے وجود آپ ہی سے ہیں یعنی روح محمدی ہی ان کے اندر جلوہ گر تھی۔یہ مقام، فنا کا قطعی مقام نہیں تو اسے اور کیا کہا جا سکتا ہے۔الغرض جہاں نبی اپنے تشریعی نبی کی اطاعت میں فنا کا مقام رکھتے ہیں وہاں ان مذکورہ بالا عبارتوں سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ ہر نبی آنحضرت ﷺ میں ایسی کاملیت اور جامعیت کے ساتھ فنا تھا کہ ان میں آنحضرت ﷺ ہی جلوہ گر تھے اور ان میں آپ ہی کی شانِ نبوت کا اظہار ہوتا تھا۔پس عبد الحفیظ نے ایک بہت ہی بے تکی بات کی ہے جس کا سلوک کی راہوں سے اور منازل سلوک سے دور کا بھی تعلق نہیں۔اس کی اس بات سے صاف پتہ چلتا ہے کہ وہ روحانیت سے تہی دست ہے ایک جعلی پیر ہے۔جہاں تک امت کے مسیح و مہدی کے رسول اللہ ﷺ میں فنا ہونے کا مسئلہ ہے تو آئمہ سلف اس بات پر متفق ہیں کہ وہ اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ سے مکمل فنائیت کا مقام رکھتے ہیں۔چنانچہ حضرت ملا جامی خاتم الولایت امام مہدی کے درجے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : " فمشكوة خاتم الانبياء هى الولاية الخاصة المحمدية وهي بعينها مشكواة خاتم