شیطان کے چیلے — Page 494
490 السماء وان الله تعالی مسح بيده على راسه وقال له يا بنى بلغ عنى ثم انزله الى الارض وزعم انه الكسف الساقط من السماء المذكور فى قوله وان يروا كسفاً من السماء ساقطاً يقولوا سحابٌ مركوم) وكفرت هذه الطائفة بالقيامة والجنة والنار وتاوّلوا الجنة على نعيم الدنيا والنار على محن الناس فى الدنيا واستحلوا مع هذه الضلالة خنق مخالفيهم واستمرت فتنتهم على عادتهم الى ان وقف يوسف بن عمر الثقفي واتى العراق في زمانه على عورات المنصورية فاخذ ابا منصور العجلى وصلبه ـ “ (صفحہ 234) 66 ترجمہ :۔ابو منصور مذکور نے یہ دعوی کیا کہ وہ امام باقر کا خلیفہ ہے۔بعد ازاں اپنے دعوئی میں الحاد سے کام لیا اور کہا کہ اس کو آسمان پر اٹھایا گیا۔اللہ تعالیٰ نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔اور فرمایا کہ اے میرے بیٹے میری طرف سے تبلیغ کر۔پھر اس کو زمین پر اتارا۔اس کا خیال تھا کہ آیت وَإِنْ تَرَوْا میں جس الكسف الساقط “ کا ذکر ہے وہ میں ہوں۔منصور یہ فرقہ نے قیامت جنت اور دوزخ کا انکار کر دیا ہے۔اور جنت سے مراد تا ویلا دنیا کی نعمتیں اور دوزخ سے مراد دنیا کی مصیبتیں لی ہیں۔اس قدر ضلالت کے باوجود یہ لوگ اپنے مخالفوں کو گردن زدنی سمجھتے ہیں۔ان کا فتنہ جاری رہا تا وقتیکہ یوسف بن عمر ثقفی کو آگاہی ہوئی اور اس نے ان کے معائب کو دریافت کیا اور ابو منصور عجلی کو پکڑ کر صلیب پر مار دیا۔“ اس اقتباس سے دو باتیں خاص طور پر ثابت ہوتی ہیں: اول :۔ابو منصور کا دعویٰ ہرگز نبوت کا نہیں تھا۔وحی و الہام کا بھی نہیں تھا۔اس کا کوئی الہام پیش نہیں کیا گیا۔ہاں اس نے الحاد اور بے دینی اختیار کی اور شیعوں کے ایک حصہ کو امام باقر کی خلافت کے دعوی کے باعث ہمنو ابنالیا۔دوم :۔یہ شخص مارا گیا۔صلیب دیا گیا اور وہ اپنے کیفر کردار کو پہنچ گیا۔کیا اس کو آنحضرت ﷺ کے مقابلہ پر پیش کرنا کھلی مغالطہ دہی نہیں ؟ پس اب نصف النہار کی طرح یہ ثابت ہو چکا ہے کہ کسی مفتری علی اللہ کو خدا تعالیٰ نے کامیاب و کامران نہیں کیا اور اسے تمیں سال کی مہلت نہیں دی۔تمیس سال کی تصدیق ، امت میں صرف اسی کو حاصل