شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 481 of 670

شیطان کے چیلے — Page 481

477 لئے اختیار کرتے ہیں جن پر وہ ناراض ہوتے ہیں اور وہ یوں کہ جلا داس شخص یا مفتری کا دایاں ہاتھ پکڑیگا اور تلوار سامنے سے چلا کر گردن اڑادے گا۔“ آئمہ سلف نے خاص طور پر تئیس سال کو جو کہ آنحضرت ﷺ کا زمانہ نبوت و وحی والہام تھا ، معیار صداقت کے طور پر قائم کیا اور اسے مخالفین اسلام کے سامنے ایک نا قابل رڈ دلیل کے طور پر پیش فرمایا۔چنانچہ (1) عقائد کی مشہور کتاب ” نبراس ،شرح الشرح لعقائد النسفی میں لکھا ہے: " فان العقل يجزم بامتناع اجتماع هذه الامور فى غير الانبياء وان يجمع الله تعالى هذه الكمالات في حق من يعلم انه يفترى عليه ثم يمهله ثلاثاً وعشرين سنةً ـ “ مطبوعہ شاہ عبد الحق محدث دہلوی اکیڈمی سرگودہا ) ترجمہ:۔عقل اس بات پر کامل یقین رکھتی ہے کہ یہ امور ( معجزات اور اخلاق عالیہ وغیرہ) غیر نبی میں نہیں پائے جاتے۔نیز یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ یہ باتیں کسی مفتری میں جمع نہیں کرتا اور یہ بھی کہ پھر اس کو تئیس برس مہلت نہیں دیتا۔(2) حضرت امام ابن القیم ایک عیسائی مناظر کے سامنے بطور دلیل صداقت فرماتے ہیں: " وهو مستمر فى الافتراء عليه ثلاثاً وعشرين سنةً وهو مع ذلك يؤيده و ينصره و یعلی امره و يمكن له من اسباب النصر الخارجة عن عادة البشر و اعجب من ذلك انه دعواته و یهلک اعدائه من غير فعل منه نفسه ولا سبب“ (زاد المعاد في هدي خير العباد - الجزء الثالث صفحہ 42 مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت) ترجمہ :۔یہ کس طرح ممکن ہے کہ جسے تم مفتری قرار دیتے ہو وہ مسلسل تنیس برس تک اللہ تعالیٰ پر افتراء کرتا رہے اور اللہ تعالیٰ بایں ہمہ اس کو ہلاک کرنے کی بجائے اس کی تائید کرے اور اس کی نصرت فرمائے اور اس کے کام کو عظمت بخشے اور اس کو فتح و نصرت کے ایسے اسباب عطا فرمائے جو انسانی طاقت سے بالا تر ہوں بلکہ اس سے بھی عجیب تریہ کہ وہ اس کی دعاؤں کو سنتا ر ہے اور اس کے دشمنوں کو بغیر اس کی کوشش اور سبب کے ہلاک کرتا ر ہے؟“