شیطان کے چیلے — Page 474
470 پہلی رات میں گرہن لگ جائے گا یعنی مہینہ کی تیرھویں رات جو گرہن کی مقررہ راتوں میں سے پہلی رات ہے۔ایسا ہی سورج کو اپنے گرہن کے مقررہ دنوں میں سے بیچ کے دن میں گرہن لگے گا یعنی مہینہ کی اٹھائیسویں تاریخ کو جو سورج کے گرہن کا ہمیشہ بیچ کا دن ہے کیونکہ خدا کے قانونِ قدرت کے رو سے ہمیشہ چاند کا گرہن تین راتوں میں سے کسی رات میں ہوتا ہے یعنی 13 ، 14 ، 15 ایسا ہی سورج کا گرہن اس کے تین مقررہ دنوں میں سے کبھی باہر نہیں جاتا یعنی مہینہ ک27 28 29 پس چاند کے گرہن کا پہلا دن ہمیشہ تیرھویں تاریخ سمجھا جاتا ہے اور سورج کے گرہن کا بیچ کا دن ہمیشہ مہینہ کی 28 تاریخ عظمند جانتا ہے۔اب ایسی صاف پیشگوئی میں بحث کرنا اور یہ کہنا کہ قمر کا گرہن مہینہ کی پہلی رات میں ہونا چاہئے تھا یعنی جبکہ کنارہ آسمان پر ہلال نمودار ہوتا ہے یہ کس قدر ظلم ہے۔کہاں ہیں رونے والے جو اس قسم کی عقلوں کو روویں۔یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ پہلی تاریخ کا چاند جس کو ہلال کہتے ہیں وہ تو خود ہی مشکل سے نظر آتا ہے۔اسی وجہ سے ہمیشہ عیدوں پر جھگڑے ہوتے ہیں۔پس اس غریب بے چارہ کا گرہن کیا ہوگا۔کیا پدی کیا (تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 137 تا 140) پدی کا شور با۔“ پس راشد علی اور اس کے پیر کا جھوٹ اور ان کی جہالت اظہر من الشمس ہے جسے چاند اور سورج کے گرہن والی پیشگوئی نے مزید کھول کر دکھا دیا ہے۔(4) چاند کی پہلی رات کو گرہن راشد علی اور اس کا پیر ”رمضان میں خسوف و کسوف۔۔۔ایک سائنسی تحقیق۔از ڈاکٹر ڈیوڈ مکنائن“ کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں۔ڈاکٹر ڈیوڈ مکناٹن شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے ایک مشہور و معروف عیسائی منجم (۔۔۔) ہیں جو کہ حکومت دبئی کے موسمیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔رمضان میں خسوف و کسوف کے اجتماع کے موضوع پر انہوں نے ایک تحقیقی مقالہ لکھا ہے۔ان کی تحقیقات کا خلاصہ درج ذیل ہے۔چاند گرہن :۔سورج کو گرہن اس وقت لگتا ہے چاند زمین اور سورج کے درمیان آجائے اور یہ صرف اور صرف نئے چاند پر ہی