شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 444 of 670

شیطان کے چیلے — Page 444

442 ترجمہ: اور ہمیں حکم ہے کہ ہم نرمی اور حلم کے ساتھ محبت پوری کریں اور بدی کے عوض میں بدی نہ کریں۔مگر اس صورت میں جب کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دینے اور اہانت کرنے اور مخش گوئی میں حد سے بڑھ جائے۔پس ہم عیسائیوں کو گالی نہیں دیتے۔اور دشنام اور منش گوئی اور ہتک عزت سے پیش نہیں آتے اور ہم صرف ان لوگوں کی طرف توجہ کرتے ہیں جو ہمارے نبی کو بصراحت یا اشارات سے گالیاں دیتے ہیں۔اور ہم ان پادری صاحبوں کی عزت کرتے ہیں جو ہمارے نبی ﷺ کو گالیاں نہیں دیتے اور ایسے دلوں کو جو اس پلیدی سے پاک ہیں ہم قابل تعظیم سمجھتے ہیں اور تعظیم و تکریم کے ساتھ ان کا نام لیتے ہیں اور ہمارے کسی بیان میں کوئی ایسا حرف اور نقطہ نہیں ہے جو ان بزرگوں کی کسرشان کرتا ہو اور صرف ہم گالی دینے والوں کی گالی ان کے منہ کی طرف واپس کرتے ہیں تا ان نجم الہدی۔روحانی خزائن جلد ۴۱ صفحہ ۹۷ کے افترا کی پاداش ہو۔،۷۸ بقیہ حاشیہ) یہ عبارت بھی روزِ روشن کی طرح ظاہر کرتی ہے کہ اس کتاب میں حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ناموس کی حفاظت اور اس کے لئے غیرت میں اٹھے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سخت قلم کا نشانہ صرف مخش گو، دریدہ دہن پادری تھے نہ کہ سارے پادری یا سارے عیسائی چہ جائیکہ مسلمان عوام اس کا مصداق ہو سکتے۔پس راشد علی اور اس کا پیر حفیظ صرف جھوٹ اور افتراء کی غلاظت پر منہ مارتے ہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے فحش گو عیسائیوں کے ہمنوا بھی بنے ہیں۔خلاصہ کلام یہ کہ مسیح موعود علیہ السلام کے اس شعر کے مسلمان مصداق ہی نہیں ہیں حتی کہ سارے عیسائی بھی مراد نہیں ہیں بلکہ "العداء میں صرف دشمن عیسائیوں کا ذکر ہے۔سب منکرین کا قطعا ذ کر نہیں ہے۔چنانچہ اس کی مثال سورہ المائدہ کی آیت: 61 میں بڑی واضح طور پر ملتی ہے۔اس جگہ بھی سارے اہلِ کتاب مراد نہیں بلکہ بعض اہل کتاب کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وَجَعَلَ مِنْهُمُ القِرَدَةَ وَالخَنَازِير کہ وہ اپنے کردار کے اعتبار سے بندر اور خنزیر ہو گئے اسی طرح دشمن پادری خنزیروں کی طرح اسلام اور بانی اسلام ﷺ پر گندے حملے کرتے ہیں اور نساء هم “ یعنی ان کی (پادری) عورتیں کشتیوں کی طرح اسلام اور بانی اسلام کے خلاف زبان درازی کرتی ہیں۔66