شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 443 of 670

شیطان کے چیلے — Page 443

441 مسیح موعود کے ساتھ صلیب کو توڑے گا اور اپنے عہدوں کو پورا کرے گا اور خدا تعالیٰ تخلف وعدہ نہیں کرتا۔نجم الہدی۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 77 ، 78 ) یہ عبارتیں صاف بتا رہی ہیں کہ کتاب ” نجم الہدی کی نظم ونثر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ارفع شان اور اسلام کی عظمت کا ذکر فرمایا ہے اور رسول خدا کی خاطر اپنی طبعی غیرت اور محبت بیان فرمائی ہے۔اسی طرح عیسائیوں کی یلغار اور ان کی کاروائیوں کا ذکر کر کے اس جنگل کی بھی نشاندھی فرمائی ہے۔جس میں عیسائی پادری پھرنے لگے تھے اور ان کی عورتوں کی کارروائیوں کا بھی ذکر فرمایا ہے۔الغرض اس نظم کا سارا سباق اس کی تشریح کرتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ الله اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو عیسائی ہیں اور آنحضرت ﷺ کو گالیاں دینے والے ہیں لیکن اس کے باوجود در اشد علی اور اس کا پیر حفیظ ، عقل کے پیچھے لٹھ لئے پھرتے ہیں اور تکرار کرتے چلے جاتے ہیں کہ اس شعر سے وہ اور دوسرے مسلمان مراد ہیں۔پس جو شخص خود با صرار ہزار، دریدہ دہن بد زبان عیسائی پادریوں کی صف میں کھڑا ہو کر شاتم رسول، شمن اسلام اور اسلام کے باغ کو اجاڑنے والا بنا چاہتا ہو اسے کون روک سکتا ہے۔ہم اس سے صرف یہ درخواست کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے ساتھ شرفاء اور عامتہ المسلمین کو اس کا مصداق نہ بنائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا موقف فرمایا: وانا امرنا ان نتم الحجة بالرفق والحلم والتوء دة ولا ندفع السيئة بالسيئة الا اذا كثر سب رسول الله وبلغ الامر الى القذف وكمال الاهانة ـ فلا نسب احداً من النصارى - ولا نتصدى لهم بالشتم والقدف وهتك الاعراض وانّما نقصد شطر الذين سبّوا نبينا الله وبـالـغـوا فـيـه بالتصريح او الايماض ونكرم قسوساً لا يسبون ولا يقذفون رسولنا كالاراذل والحامة ونعظم القلوب النزهة عن هذه العذرة - ونذكرهم بالاكرام والتكرمة فليس في بيان منا حرف ولا نقطة يكسر شان هذه السادات وانّما نردّ سبّ السابين على وجوههم جزاءً للمفتريات۔“