شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 434 of 670

شیطان کے چیلے — Page 434

432 نہیں ہے اور دوسری عبارت میں انہوں نے ایک عربی عبارت کا صریح غلط ترجمہ کر کے اسے اعتراض کے طور پر پیش کیا ہے۔اول تو یہ بات ہی غلط ہے کہ کسی کو ذریۃ البغایا“ کہہ دینے سے ” متوازی امت“ معرض وجود میں آجاتی ہے دوسرے یہ کہ در حقیقت یہ ایک گھسا پٹا اعتراض ہے جو راشد علی اور اس کے پیر نے بھی دوہرایا ہے۔حالانکہ جماعت احمد یہ بار بار اس کا جواب اختصاراً بھی دے چکی ہے اور تفصیلا بھی۔یہ لوگ فتنہ اور شتر کی خاطر عوام الناس کو جماعت کے خلاف انگیخت کرنے کے لئے ،حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی جس تحریر کو ہدف اعتراض بناتے ہیں وہ یہ ہے: وو ” تلک کتب ينظر اليها كل مسلم بعين المحبة والمودة وينتفع من معارفها ويقبلني ويصدق دعوتى - الاذرية البغايا الذين ختم الله على قلوبهم آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 548،547) فهم لا يقبلون ـ “ اس عبارت کا صحیح اور درست ترجمہ یہ ہے: وو یہ وہ کتب ہیں جن کو سب مسلمان محبت اور مودت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور مجھے قبول کرتے اور میری دعوت کو سچا سمجھتے ہیں سوائے ان سرکشوں اور ان کے پیروکاروں کے جن کے دلوں پر خدا تعالیٰ نے مہر لگا دی ہے پس وہ قبول نہیں کرتے۔“ لغت میں جہاں بغایا کے وہ بُرے معنے بھی موجود ہیں جو راشد علی اور اس کے پیر نے کئے ہیں تو وہاں اس کے اچھے معنے بھی موجود ہیں۔اگر کسی لفظ کے دونوں طرح کے معنے ہو سکتے ہوں تو جہاں سیاق وسباق کے لحاظ سے اچھے معنے ہو سکتے ہوں تو وہاں اچھے معنے ہی کرنے چاہئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کتاب میں بار بار مسلمانوں کو انتہائی عزت و احترام کے ساتھ یاد کیا ہے جس کی چند ایک مثالیں ہدیہ قارئین کی جاتی ہیں۔آپ نے متعدد بار اپنی جماعت کے علاوہ دیگر مسلمانوں کو مسلمان ہی قرار دیا ہے اور انہیں اپنا ہم مذہب بھائی کہا ہے اور لکھا ہے کہ وہ وو علانیہ تو حید کے قائل ہیں۔کسی انسان کو خدا نہیں بناتے اور بہ برکت تو حید اپنے اندر ایک نور بھی رکھتے ہیں۔“ آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 223 )