شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 379 of 670

شیطان کے چیلے — Page 379

377 مذہب قرار دیتے ہوئے اس وقت کی ملکہ کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔وہ عظیم الشقان ملکہ جس کی حکومت پر سورج غروب نہیں ہوا کرتا تھا۔آپ نے ایک طرف اس کے انصاف کی تعریف فرمائی تو دوسری طرف اسے کھلم کھلا اسلام کی طرف آنے کی دعوت دی۔صرف مسیح موعود نے عیسائیوں کے خلاف علم جہاد بلند کیا اب دیکھئے دیگر علماء کا کیا کردار تھاوہ ہندوستان کو دارالاسلام قرار دیتے تھے جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عارف باللہ نگاہ نے اسے دار الاسلام کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ دارالحرب سمجھا کیونکہ آپ جہاد کا حقیقی عرفان رکھتے تھے، آپ جانتے تھے کہ جہاد کس کو کہتے ہیں کیونکہ جہاں جہاد فرض ہے وہ دارالاسلام نہیں ہو سکتا وہ تو دارالحرب ہے لیکن کن معنوں میں ؟ اس کی آپ خود تشریح فرماتے ہیں: یہ مقام دارالحرب ہے پادریوں کے مقابلہ میں۔اس لئے ہم کو چاہئے کہ ہر گز بیکار نہ بیٹھیں۔مگر یاد رکھو کہ ہماری حرب ان کے ہم رنگ ہو۔جس قسم کے ہتھیار لے کر میدان میں وہ آئے ہیں اسی طرز کے ہتھیار ہم کو لے کر نکلنا چاہئے اور وہ بہتھیار ہے قلم۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کا نام سلطان القلم ور میرے قلم کو ” ذوالفقار علی فرمایا ہے اس میں یہی سر ہے کہ یہ زمانہ جنگ وجدل کا نہیں بلکہ قلم کا زمانہ اور ہے۔66 ( ملفوظات جلد اول صفحہ 224) پھر آپ ملکہ معظمہ وکٹوریہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اے معز ز ملکہ مجھے تعجب ہے کہ تو باوجود کمال فضل اور علم و فراست کے دین اسلام کی منکر ہے( کیا یہ خوشامدی کی زبان ہوا کرتی ہے اگر تم خوشامدی نہیں تھے تو تمہیں ایسے الفاظ کی تو فیق کیوں نہ ملی اور جس غور و فکر کی آنکھ سے سلطنت کے امور سرانجام دیتی ہے اس آنکھ سے اسلام کے بارے میں غور کیوں نہیں کرتی۔سخت تاریکی کے بعد اب جب کہ آفتاب طلوع ہو چکا ہے تو کیا اب بھی تو نہیں دیکھتی۔تو جان لے (اللہ تیری مدد کرے) یقیناً دین اسلام ہی انوار کا مجموعہ ہے،