شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 354 of 670

شیطان کے چیلے — Page 354

352 او نه یک دو ہزار ایں قتيلان او بروں ز شمار اس دلدار کے فدائی صرف ایک دو یا ہزار انسان ہی نہیں ہیں بلکہ اس کے کشتے بے شمار ہیں۔ہر زمانے قتل تازه غازه روئے او دم بخواست شهداست ہر وقت وہ ایک نیا قتیل چاہتا ہے اس کے چہرہ کا غازہ شہیدوں کا خون ہوتا ہے این سعادت رفته رفته بود قسمت رسید نوبت یہ سعادت چونکہ ہماری قسمت میں تھی رفتہ رفتہ ہماری نوبت بھی آ پہنچی۔ان سے اگلا شعر یہ ہے کر بلائے صد حسین آنم سیر ہر گریبانم در اواواواواواواواواواں۔میں ہر وقت گو یا کربلا میں پھرتا ہوں اور سینکڑوں حسین میرے دل میں پنہاں ہیں۔( نزول امسیح۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 476) اس آخری شعر میں آپ نے میدانِ کربلا کے کرب و بلا اور اس میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ثبات قدم اور قربانیوں کی کیفیات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس زمانہ میں ان کیفیات میں سے آپ گذر رہے ہیں۔پس یہاں نہ اس میدان کربلا کا ذکر ہے نہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا۔بلکہ یہ دونوں نام مستعار لے کر بطور استعارہ استعمال کئے ہیں۔اور شعر و ادب میں استعارہ کو ظاہر پرمحمول کرنا جائز نہیں ہے۔اسی طرح شعر کا قرینہ بتاتا ہے کہ اس میں لفظ ” گریبان کا استعارہ دل کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔گریبان سے مراد قمیض و کر نہ کا گلا نہیں بلکہ عشق خدا سے معمور وہ دل ہے جس میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ جیسے کشتگانِ جب خدا کی محبت سینکڑوں دفعہ نہیں، ہزار ،لاکھ بار بسی ہوئی ہے۔شعر وادب کا یہ خاصہ اور حسن ہے کہ چاہے کسی زبان کے ہوں ان میں مجاز اور استعارے استعمال