شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 337 of 670

شیطان کے چیلے — Page 337

335 اور اس کی تسبیح اور تقدیس میں لگ گیا اور زمین کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ میں تو صرف خا کی ہوں اور ان تہمتوں سے بری ہوں جو مجھ پر لگائی جاتی ہیں۔پس میں نے اس کو ایک متواضع اور کسر نفسی کرنے والا آدمی پایا۔( نور الحق حصہ اول۔روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 57،56) انا نكرم المسيح ونعلم انه كان تقياً ومن الانبياء الكرام “ البلاغ فریا د درد۔روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 451 حاشیہ) ترجمہ۔ہم یقیناً مسیح علیہ السلام کی تکریم و تعظیم کرتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ وہ پاکباز تقوی شعار تھا اور انبیاء کرام علیہم السلام میں سے تھا۔مذکورہ بالا ان وضاحتوں کے ہوتے ہوئے کوئی منصف مزاج یہ نہیں کہہ سکتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نعوذ باللہ قرآن کریم میں مذکور حضرت مسیح عیسی بن مریم کی توہین کی ہے اور ان کو ان کے مقام سے گرایا ہے۔متکلمین کا ہمیشہ سے یہ طریق چلا آیا ہے کہ وہ فریق مخالف کے مسلمات کی بنا پر بطور الزامی جواب کلام کرتے ہیں جبکہ ان کا اپنا وہ عقیدہ نہیں ہوتا۔مثال کے طور پر چند علماء اہل سنت والجماعت کے اقوال ذیل میں درج کئے جاتے ہیں جو اہل سنت کے مقتداء مانے جاتے ہیں۔ان کی تحریروں میں عموما ان سب عبارتوں کا جواب مل جاتا ہے جو راشد علی اور اس کے پیر نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اعتراض کے لئے پیش کی ہیں۔ملاحظہ فرمائیں۔(۱) کتاب ازالۃ الا وہام جو علمائے اہلِ سنت کے مقتدا مولوی رحمت اللہ مہاجر مکی کی تصنیف ہے اور سینیوں میں ایک مستند مقام کی حامل ہے۔اس میں وہ لکھتے ہیں: (1) اکثر معجزات عیسویه را معجزات ندانند زیرا که مثل آنها ساحراں ہم میسازند و یہود آنجناب را چوں نبی نمے دانند و همچو معجزات ساحر میگویند کہ اکثر معجزات عیسویہ کو معجزات قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ ایسے کام تو جادوگر بھی کر لیتے ہیں۔اسی وجہ سے (صفحہ 129 ) یہود آپ کو نبی تسلیم نہیں کرتے اور ان کے معجزات کو ساحروں کے معجزے قرار دیتے ہیں۔(ii) ” جناب مسیح اقرار میفرمایند که یکی زنان میخوراندند نه شراب مے آشامیدند و آنجناب شراب ہم دو