شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 311 of 670

شیطان کے چیلے — Page 311

310 آپ نے اپنی بیعت میں داخل ہونے والوں کے لئے یہ شرط بھی رکھی کہ بلاناغہ پنجوقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول کے ادا کرتا رہے گا اور حتی الوسع نماز تہجد کے پڑھنے اور اپنے نبی کریم ﷺے اور ہر روز اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیار کرے گا۔اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے آپ نے یہ بھی فرمایا: وو (اشتہار 12 جنوری 1889ء۔بحوالہ رسالہ درود شریف صفحہ 72) درود شریف وہی بہتر ہے کہ جو آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے نکلا ہے اور وہ یہ ہے۔اللهمّ صلّ على محمّدٍ وعلى آل محمد كما صليت على ابراهيم وعلى آل ابراهيم انک حمید مجید ـ اللهم بارک علی محمّدٍ وعلی آلِ محمد كما باركت على ابراهيم وعلى آل ابراهیم انک حمید مجید “ جو الفاظ ایک پر ہیز گار کے منہ سے نکلتے ہیں ان میں ضرور کسی قدر برکت ہوتی ہے۔پس خیال کر لینا چاہئے کہ جو پر ہیز گاروں کا سردار اور نبیوں کا سپہ سالار ہے۔اس کے منہ سے جو لفظ نکلے ہیں وہ کس قدر متبرک ہوں گے۔غرض سب اقسام درود شریف سے یہی درود شریف زیاد ہمبارک ہے۔یہی اس عاجز کا ورد ہے۔اور کسی تعداد کی پابندی ضروری نہیں۔اخلاص اور محبت اور حضور اور تضر ع سے پڑھنا چاہئے اور اس وقت تک ضرور پڑھتے رہیں کہ جب تک ایک حالت رقت اور بے خودی اور تاثر کی پیدا ہو جائے اور سینہ میں انشراح اور ذوق پایا جائے۔“ ( مکتوبات احمدیہ۔جلد اول۔صفحہ 18 بحوالہ رسالہ درود شریف صفحہ 98) رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنے کی برکتوں کے بارہ میں آپ اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’ ایک رات اس عاجز نے اس کثرت سے درود شریف پڑھا کہ دل و جان معطر ہو گیا۔اس رات خواب میں دیکھا کہ فرشتے آب زلال کی شکل پر نور کی مشکیں اس عاجز کے مکان میں لئے آتے ہیں اور ایک نے ان میں سے کہا کہ یہ وہی برکات ہیں جو تو نے محمد کی طرف بھیجی تھیں۔صلی اللہ علیہ وسلم۔(براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد ا صفحه 576 حاشیه در حاشیه (3) پس درود شریف پر ڈاکہ کے الزام میں راشد علی اور اس کا پیر کا جھوت انتہائی فتیح ہے اور وہ خود