شیطان کے چیلے — Page 300
299 ہیں۔مسلمانوں کو نبی کریم ﷺ کے اس رویا کی وجہ سے اسی سال مکہ میں داخل ہونے اور بیت اللہ کا طواف کرنے کے بارہ میں کوئی شک نہ تھا۔جب انہوں نے صلح کا وقوع دیکھا تو اس سے انہیں سخت صدمہ ہوا۔66 پس اس اجتہادی غلطی سے گو مسلمانوں کو بہت سخت صدمہ ہوا لیکن اجتہادی غلطی کوئی قابل اعتراض امر نہیں بلکہ اس پر اعتراض کرنا قابلِ اعتراض ہے۔اجتہادی خطا کا ایک اور واقعہ ملاحظہ الله ہو۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں: " رايت" فى المنام اني اهاجر من مكة الى ارض ذات نخل فذهب وهلى انها اليمامة او الحجر فاذا هي مدينة يثرب۔66 ( بخاری کتاب التفسير - باب اذارای بقر أنتحر ) ترجمہ:۔میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایک کھجوروں والی زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں تو میرا خیال (اجتہادا) اس طرف گیا کہ یہ سرزمین یمامہ یا حجر ہوگی لیکن در حقیقت وہ یثرب (مدینہ) کی زمین ثابت ہوئی۔پس اجتہادی غلطی اگر نبی سے سرزد ہو تو یہ شانِ نبوت میں حارج نہیں اور اس پر اعتراض کرنا درست نہیں۔چنانچہ اسلامی عقائد میں یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ وو ان النبي صلى الله عليه وسلم قد يجتهد فيكون خطأ ، ،، نبر اس۔شرح الشرح العقائد نسفی صفحہ 392۔ناشر مکتبہ رضویہ لاہور ) ترجمہ: نبی کریم ﷺہ بعض اوقات اجتہاد فرماتے تھے تو اس میں غلطی بھی ہو جاتی تھی۔ظاہر بات ہے کہ راشد علی اور اس کا پیر اسلامی لٹریچر سے کلیہ ناواقف ہیں جو ایسے اعتراض کرتے ہیں کہ خود اپنے ہاتھوں اپنی ہی جہالت کی قلعی کھول کر رکھ دیتے ہیں۔چنانچہ اس مذکورہ بالا کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ: وفي الحديث قال صلى الله عليه وسلم ما حدثتكم عن الله سبحانه فهو حق وما 66 قلت فيه من قبل نفسى فانما انا بشر اخطى واصيب نبراس شرح الشرح العقائد نسفی۔صفحہ 392) ترجمہ :۔حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو بات میں خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے