شیطان کے چیلے — Page 299
298 خرجوا مـعـه وصدهم الكفار بالحديبية رجعوا وشق عليهم بذلک و راب بعض المنافقين فنزلت۔“ 66 ترجمہ :۔رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ والے سال (سفر پر) باہر نکلنے سے پہلے خواب میں دیکھا کہ آپ مع صحابہ مکہ میں امن سے داخل ہوئے سر منڈاتے یا تراشتے ہوئے تو آپ نے اس امر کی صحابہ کو خبر دی جس پر وہ خوش ہوئے پس جب وہ آپ کے ساتھ نکلے اور کفار نے انہیں حدیبیہ پر روک دیا تو وہ ایسی حالت میں واپس ہوئے کہ یہ امر ان پر شاق تھا اور بعض منافقوں نے شک کیا تو سورۃ الفتح نازل ہوئی۔2 امام ابن قیم آیت کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں: " اخبر سبحانه انه صدق رسوله رؤياه في دخولهم المسجد - آمنين وانه سيكون ولا بد ولكن لم يكن قد آن وقت ذلك فى العام والله سبحانه علم من مصلحة تاخيره الى وقته مالم تعلموا انتم فانتم احببتم استعجال ذلك والربّ تعالى يعلم مصلحة التاخير۔(زاد المعاد جلد اول الجزء الثانی صفحہ 215 - المکتبہ القیمہ القاہرہ) ترجمہ:۔اللہ سبحانہ نے اپنے رسول کو سچی خواب دکھائی جو ان کے مسجد ( حرام ) میں امن سے داخل ہونے کے متعلق تھی کہ ایسا عنقریب ہوگا۔یہ ضرور واقع ہو گا لیکن اس سال ابھی اس کا وقت نہ آیا تھا اور اللہ سبحانہ اس کے وقت کی تاخیر کی مصلحت جانتا تھا جو تم لوگوں نے نہ جانی پس تم نے تو اس بات کا جلدی وقوع میں آنا چاہا اور خدا تعالیٰ اس میں تاخیر کی مصلحت جانتا ہے۔3 تفسیر روح البیان جلد 4 صفحہ 501 میں لکھا ہے:۔ان رسول الله صلى الله عليه وسلّم راى فى المنام انه دخل مكة واصحابه آمنين واخبـر بـذلك الصحابة ففرحوا ثم اخبر اصحابه انه يريد الخروج للعمرة كان المسلمون لا يشكون في دخلولهم مكة وطوافهم البيت ذلك العام للرؤيا التي راها الله 66 النبي صلى ا الله عليه وسلم فلما راوا الصلح دخلهم من ذلک امر عظیم۔“ ترجمہ:۔کہ رسول اللہ ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ آپ تو اور صحابہ ملکہ میں امن سے داخل ہورہے ہیں آپ نے اس کی خبر صحابہ کو دی وہ خوش ہوئے پھر آپ نے بتایا کہ آپ عمرہ کے لئے جانا چاہتے