شیطان کے چیلے — Page 286
285 دوسری حدیث تلاش کرو تو فی الفور مل جائے گی۔پس اس سے قرآن شریف کے بینات کو چھوڑ نا اور ایسی متناقض حدیثوں کے لئے ایمان ضائع کرنا کسی اللہ کا کام ہے نہ عقلمند کا۔پھر یہ بھی سوچو کہ اگر قرآن کے مخالف ہو کر حدیثیں کچھ چیز ہیں تو نماز کی حدیثوں کو تو سب سے زیادہ وقعت ہونی چاہئے تھی اور تو اتر کے رنگ میں وہ ہونی چاہئے تھیں مگر وہ بھی آپ لوگوں کے تنازع اور تفرقہ سے خالی نہیں ہیں۔یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ ہاتھ کہاں باندھنے چاہئیں اور رفع یدین اور عدم رفع اور فاتحہ خلف امام اور آمین بالجبر وغیرہ کے جھگڑے بھی اب تک ختم ہونے میں نہیں آئے اور بعض بعض کی حدیثوں کو رد کر رہے ہیں۔اگر ایک وہابی حنفیوں کی مسجد میں جا کر رفع یدین کرے اور امام کے پیچھے فاتحہ پڑھے اور سینہ پر ہاتھ باندھے اور آمین بالجبر کرے تو گواس عمل کی تائید میں چارسو صحیح حدیث سنادے تب بھی وہ ضرور مارکھا کر آئے گا۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ابتداء سے ہی حدیثوں کو بہت عظمت نہیں دی گئی اور امام اعظم جو امام بخاری سے پہلے گزر چکے ہیں بخاری کی حدیثوں کی کچھ پروا نہیں کرتے اور انکا زمانہ اقرب تھا۔چاہئے تھا کہ وہ حدیثیں ان کو پہنچتیں۔اس لئے مناسب ہے کہ حدیث کے لئے قرآن کو نہ چھوڑا جائے۔ور نہ ایمان ہاتھ سے جائے گا۔اِنَّ الظَّنَّ لَا يُعْنِي مِنَ الحَقِّ شَيئًا۔پھر اگر حکم کا فیصلہ بھی نہ مانا جائے تو پھر وہ حکم کس چیز کا۔ماسوا اس کے اگر نہایت ہی نرمی کریں تو ان حدیثوں کو ظن کا مرتبہ دے سکتے ہیں اور یہی محدثین کا مذہب ہے۔اور ظن وہ ہے جس کے ساتھ کذب کا احتمال لگا ہوا ہے پھر ایمان کی بنیاد محض ظن پر رکھنا اور خدا کے قطعی یقینی کلام کو پس پشت ڈال دینا کونسی عقلمندی اور ایمانداری ہے ہم یہ نہیں کہتے کہ تمام حدیثوں کورڈی کی طرح پھینک دو بلکہ ہم کہتے ہیں کہ ان میں سے وہ قبول کرو جو قرآن کے منافی اور معارض نہ ہوں تا ہلاک نہ ہو جاؤ۔ماسوا اس کے مولوی محمد حسین صاحب جو موحدین کے ایڈوکیٹ کہلاتے ہیں اپنے اشاعۃ السنہ میں جس میں انہوں نے براہین احمدیہ کار یو یولکھا ہے تحریر فرماتے ہیں کہ جن لوگوں کو بذریعہ کشف کے آنحضرت ﷺ کی حضوری ہوتی ہے وہ محد ثین کی تنقید کے پابند نہیں ہو سکتے بعض حدیثیں جو محدثین کے نزدیک صحیح