شیطان کے چیلے — Page 283
282 موعود علیہ السلام کا مقام آنحضرت ﷺ کے ارشادات کے مطابق اور آپ کی پیشگوئیوں کے مطابق ، آپ کا امتی ہو کر مجد در موعود مسیح ، معہود مہدی اور نبی اللہ کا تھا۔اس وضاحت کے باوجود اگر پھر بھی کوئی کہے کہ یہ مفہوم بعد میں شاعر نے بنالیا ہے اور دراصل اس کا اصل مفہوم وہ تھا جو بظا ہر دکھائی دیتا ہے اور جس پر پیر عبدالحفیظ نے حملہ کیا ہے تو بے شک ایسا سمجھے۔مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ شاعر نے خود جو تشریح پیش کی ہو وہی دراصل اہلِ علم کے نزدیک قابل قبول ہوا کرتی ہے اور اگر یہ بات بھی کوئی تسلیم نہیں کرتا تو اسے یہ حق تو ہو سکتا ہے کہ اکمل صاحب کی طرف گستاخی منسوب کر کے ان پر بے شک ملامت کرے لیکن ان کی طرف منسوب شدہ گستاخی کو ہرگز جماعت احمدیہ کی طرف منسوب کرنے کا اسے حق نہیں۔ہم ایک بار پھر یہ اعلان کرتے ہیں کہ قاضی ظہور الدین اکمل صاحب کی بیان کردہ تشریح قابل اعتراض نہیں ہے لیکن اس کے باوجود معترض اپنے بنائے ہوئے معنے ہی اس شعر کو پہنانے پر مصر ہو تو یہ شعر تو ملامت کا سزاوار ہو سکتا ہے لیکن احمدیت ہرگز اس ملامت کا نشانہ نہیں بن سکتی۔ایک دفعہ پھر ہم اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ اکمل صاحب سمیت ہر احمدی کا عقیدہ آنحضرت ﷺ کی نسبت یہی تھا ، ہے اور ہمیشہ رہے گا کہ : سب پاک ہیں پیمبراک دوسرے سے بہتر لیک از خدائے برتر خیر الوری یہی (8) میرے دعوے کی حدیث بنیاد نہیں ہے راشد علی نے اپنی ” بے لگام کتاب“ میں ” نبوت کی بنیاد توہین رسالت یا عشق رسول؟ کے عنوان کے تحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ” نزول المسیح ،، کے ضمیمہ سے حسب ذیل عبارت پیش کی ہے اور شاید یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس عبارت میں (نعوذ باللہ ) رسول اللہ ﷺ کی توہین کی گئی ہے۔وو ” میرے دعوے کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی ہاں تائیدی طور پر ہم وہ