شیطان کے چیلے — Page 271
270 ہم مرتبہ اور ہم مقام ہو جاتے ہیں۔چنانچہ اپنے اس مقام کو بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی کتاب میں فرمایا ہے : ”ہاں یہ بات بھی ضرور یاد رکھنی چاہئے اور ہرگز فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ میں باوجود نبی اور رسول کے لفظ سے پکارے جانے کے خدا کی طرف سے اطلاع دیا گیا ہوں کہ یہ تمام فیوض بلا واسطہ میرے پر 66 نہیں ہیں بلکہ آسمان پر ایک پاک وجود ہے جس کا روحانی افاضہ میرے شامل حال ہے۔یعنی محمد مصطفیٰ۔ایک غلطی کا ازالہ۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 112) بروز کی حقیقت بروز کا مسئلہ امت میں ایک مسلمہ حیثیت کا حامل ہے اور امت کے آئمہ اور صوفیاء اس مسئلہ پر متفق ہیں کہ بعض کاملین اس طرح دوبارہ دنیا میں آجاتے ہیں کہ ان کی روحانیت کسی اور میں تجلی کرتی ہے اور اسی وجہ سے دوسر الشخص گویا پہلا شخص ہی بن جاتا ہے۔چنانچہ مشہور صوفی خواجہ غلام فرید آف چاچڑاں شریف نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں پیش فرمایا کہ ” والبروز ان يفيض روح من ارواح الكمل على كامل كما يفيض عليه التجليات 66 وهو يصير مظهره ويقول انا هو “ ( اشارات فریدی صفحہ 110 حصہ دوم۔مولفہ رکن الدین صاحب۔مطبوعہ مطبع مفید عام پریس آگرہ 1321ھ ) ترجمہ:۔کاملین کی ارواح میں سے کوئی روح کسی کامل انسان پر افاضہ کرے جیسا کہ اس پر تجلیات کا افاضہ ہوتا ہے اور وہ اس کا مظہر بن جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں وہی ہوں۔اسی طرح حضرت عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کا بروز قرار دیتے ہوئے اپنے وجود کو آنحضرت ﷺ کا وجود بیان کیا۔فرمایا: وو ” هذا وجود جدى محمد علي الله لا وجود عبد القادر ( گلدسته کرامات - صفحه 8 از مفتی غلام سرور۔مطبوعہ مفید عام لاہور ) کہ میرا وجود میرے دادا محمد ﷺ کا وجود ہے عبد القادر کا وجود نہیں۔