شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 247 of 670

شیطان کے چیلے — Page 247

246 چنانچہ۔بخاری شریف کے پہلے باب کی دوسری حدیث میں ہے:۔" 66 ” فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم احیانا یاتینی مثل صلصلة الجرس۔“ که اکثر دفعه فرشته وحی لیکرٹن ٹن ٹلی کی آواز کی طرح آتا ہے۔( بخاری۔کتاب کیف کان بدء الوحی ) یہ اب ” ٹلی کی طرح “ یا ” گھنٹی کی طرح کوئی فرشتہ نہیں۔بلکہ اس کی آمد کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔اسی طرح یہاں بھی اس کا نام صفت کے طور پر ” نیچی ہے۔یہ تو ہر کوئی جانتا ہے کہ فرشتوں کے نام ” صفاتی“ بھی ہوتے ہیں جواُن کے ذاتی نام (علم) کے سوا ہوتے ہیں۔ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا۔جب میں بیت المقدس سے فارغ ہوا۔اس وقت مجھے معراج ہوا جبرائیل جو میرے ساتھی تھے انہوں نے مجھ کو آسمان دنیا کے دروازہ پر چڑھایا جس کا نام باب الحفظ ہے اور اس کا دربان ایک فرشتہ اسمعیل نام ہے اس کے ماتحت بارہ ہزار فرشتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے ماتحت بارہ بارہ ہزار فرشتے ہیں۔“ (سیرت ابن ہشام - الجزء الثانی - صفحہ 7 قصة المعراج - المكتبه التوفيقيه القاہرہ) ظاہر ہے کہ فرشتوں کے صفاتی نام بھی ہوتے ہیں جو ان کی ڈیوٹیوں کے اعتبار سے لگائے گئے ہیں۔اگر کوئی از راہ تمسخر، شرارت سے اس فرشتے کے متعلق یہ کہے کہ ”میاں اسمعیل صاحب وہاں کھڑے تھے وغیرہ وغیرہ۔تو جو جواب یہ دیں گے وہی ہمارا جواب ہے۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے اصولی طور پر فرشتوں کے بارہ میں یہ بتایا ہے کہ وہ اس کے بے شمار لشکروں کی طرح ہیں اور آسمانوں اور زمین میں اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔فرمایا: وَلِلَّهِ جُنُودُ السَّمَواتِ وَالأَرض - (الفتح : 5) ترجمہ:۔اور اللہ کے آسمانوں میں بھی لشکر ہیں اور زمین میں بھی۔لیکن خدا تعالیٰ کے ان لشکروں کی تفصیل کا کسی کو علم نہیں۔کیونکہ فرمایا: وَمَا يَعلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلا هُوَ (المد : 32)