شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 234 of 670

شیطان کے چیلے — Page 234

233 1979ء کو اخبارسفیر ہند میں حضرت اقدس نے پانسور و پیہ کا ایک انعامی اشتہار دیا جو متعدد بار متواتر شائع ہوا۔اس اعلان میں حضرت اقدس نے سوامی دیانند صاحب کے متبعین کو بھی چیلنج دیا کہ دو ” وہ روحوں کا بے انت ہونا ثابت کریں اور نیز یہ کہ پر میشر کو ان کی تعداد معلوم نہیں“ اس اعلان پر آریہ سماج میں ایک کھلبلی سی پیدا ہوئی۔اس وقت لاہور کی آریہ سماج بہت بڑی نمایاں سماج تھی۔منشی جیوند اس صاحب اس کے سیکرٹری تھے۔انہوں نے ایک اعلان کے ذریعہ انکار کر دیا کہ: آریہ سماج والے سوامی دیانند کے تو ابعین سے نہیں ہیں“ اور انہوں نے مسئلہ مذکورہ کے متعلق بھی لکھ دیا کہ آریہ سماج کے اصولوں میں داخل نہیں جو اس کا دعویدار ہو اس سے سوال کرنا چاہئے۔“ پس آریہ سماج پر یہ اسلام کی ایک بین فتح تھی۔جس کا راشد علی اور اس کے پیر کو بہت دُکھ ہے۔ان کے موکل سوامی دیانند جی کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے قلم سے بھی حقیقت حال ملاحظہ فرمائیں۔آپ فرماتے ہیں: اس احقر نے ان کو ان کی وفات سے ایک مدت پہلے راہ راست کی طرف دعوت کی اور آخرت کی رسوائی یاد دلائی اور ان کے مذہب اور اعتقاد کا سراسر باطل ہونا براہین قطعیہ سے ان پر ظاہر کیا اور نہایت عمدہ اور کامل دلائل سے بادب تمام ان پر ثابت کر دیا کہ دہریوں کے بعد تمام دنیا میں آریوں سے بدتر اور کوئی مذہب نہیں کیونکہ یہ لوگ خدائے تعالیٰ کی سخت درجہ پر تحقیر کرتے ہیں کہ اس کو خالق اور رب العالمین نہیں سمجھتے اور تمام عالم کو یہاں تک کہ دنیا کے ذرہ ذرہ کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں اور صفت قدامت اور ہستی حقیقی میں اس کے برابر سمجھتے ہیں۔اگر ان کو کہو کہ کیا تمہارا پر میشر کوئی روح پیدا کر سکتا ہے یا کوئی ذرہ جسم کا وجود میں لا سکتا ہے یا ایسا ہی کوئی اور زمین و آسمان بھی بتا سکتا ہے یا کسی اپنے عاشق صادق کو نجات ابدی دے سکتا ہے اور بار بار کتا بلا بنے سے بچا سکتا ہے یا اپنے کسی محب خالص کی تو بہ قبول کرسکتا ہے تو ان سب باتوں کا یہی جواب ہے کہ ہر گز نہیں۔اس کو یہ قدرت ہی نہیں کہ ایک ذرہ اپنی طرف سے پیدا کر سکے اور نہ اس میں یہ رحیمیت ہے کہ کسی اوتار یا کسی رکھی یا منی کو یا کسی ایسے کو بھی کہ جس پر ویدا تر اہو ہمیشہ کے لئے نجات دے اور پھر اس کا مرتبہ ملحوظ رکھ کر مکتی خانہ سے باہر دفع نہ کرے اور اپنے اس پیارے کو جس کے دل میں پر میشر کی