شیطان کے چیلے — Page 223
222 ، اس دن آپ کو حسب ذیل دو اور الہام بھی ہوئے۔1 ـ كتب الله لا غلبن انا ورسلى - سلام قولا من رب رحیم۔ان کے ساتھ تیسرا الہام یہ تھا کہ ” ہم مکہ میں مریں گے یا مد ینہ میں“ اس کی وضاحت کرتے ہوئے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: 1۔خدا نے ابتداء سے مقدر کر چھوڑا ہے کہ وہ اور اس کے رسول غالب رہیں گے۔2۔خدا کہتا ہے کہ سلامتی ہے یعنی خائب و خاسر کی طرح تیری موت نہیں ہوگی۔اور یہ کلمہ کہ ” ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں اس کے یہ معنے ہیں کہ قبل از موت مگی فتح نصیب ہوگی جیسا کہ وہاں کے دشمنوں کو قہر کے ساتھ مغلوب کیا گیا تھا۔اسی طرح یہاں بھی دشمن قہری نشانوں سے مغلوب کئے جائیں گے۔دوسرے یہ معنے ہیں کہ قبل از موت مدنی فتح نصیب ہوگی خود بخو دلوگوں کے دل ہماری طرف مائل ہو جائیں گے۔فقرہ كَتَبَ اللهُ لاَ غْلِبَنَّ انَا وَرُسُلِی مکہ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور فقرہ سلاماً سلاماً مدینہ کی طرف۔“ البشری۔جلد 2 صفحہ 106۔و تذکرہ۔صفحہ 591) پس اس تشریح کے مطابق یہ الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات تک پوری شان سے پورا ہو چکا تھا۔اس جگہ ملکہ اور مدینہ کے لفظ حقیقہ استعمال نہیں ہوئے بلکہ مجازاً استعمال ہوئے ہیں اور مجازی استعمال میں بڑی وسعت ہے۔مجاز میں کبھی جگہ کا ذکر کر کے اس کے مکین مراد ہوتے ہیں اور کبھی اس جگہ کی حالت مراد ہوتی ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَسَئَلَهُم عَنِ القَرْيَةِ الَّتِي كَانَت حَاضِرَةَ البَحرِ (الاعراف:164) یہاں قریہ سے بستی نہیں بلکہ بستی والے مراد ہیں۔اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا: انا مدينة العلم۔کہ میں علم کا شہر ہوں۔اس سے مراد یہ ہے کہ شہر کی بھر پور حالت کی طرح میری علمی حالت ہے یعنی میں علم سے بھر پور ہوں۔پس پیشگوئی مذکورہ بالا میں بھی لفظ مکہ اور لفظ مدینہ مجازی طور پر حالت اور کیفیت کے لئے استعمال ہوا ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اپنی بیان فرمودہ تشریح سے ظاہر ہے اور واقعات کی شہادت سے ثابت ہے۔پس یہ پیشگوئی پوری ہو چکی ہے لیکن تقاصر عنه افهام الرجال