شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 222 of 670

شیطان کے چیلے — Page 222

221 سے شادی کے بارہ میں ہے۔اس کا ذکر آپ نے اپنی کتاب ” تریاق القلوب میں فرمایا ہے۔اس الہام سے بیوہ سے شادی کا اجتہاد اس وجہ سے تھا کہ تو بہ توڑ دینے کی وجہ سے محمدی بیگم کے شوہر سلطان محمد صاحب کی موت ہوگی اور وہ بیوہ ہو جائے گی۔ایسی صورت میں اس سے شادی ہوگی۔چونکہ سلطان محمد صاحب نے حقیقی توبہ کی او مخالفین کے بار بار انگیخت کرنے پر بھی تو بہ نہ توڑی تو وہ اس موت سے بچ گئے جو ان کے لئے عدم تو بہ کے ساتھ مشروط تھی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت مستمرہ کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اس اجتہاد پر قائم نہ رہنے دیا جو عدم تو بہ کی وجہ سے سلطان محمد صاحب کی موت ، اور اس کی موت کے بعد اس کی بیوہ سے شادی کے بارہ میں تھا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے 16 فروری 1906ء کو آپ پر یہ الہام نازل فرمایا تـكـفـیـک هـذه الامراة “ کہ تمہارے لئے یہ عورت ( جو تمہارے نکاح میں ہے ) کافی ہے۔اس الہام کے نازل ہونے پر آپ نے اپنے پہلے اجتہاد میں اصلاح فرمالی۔اس جدید اجتہاد سے جو الہام جدید کی روشنی میں کیا گیا آپ کا پہلا اجتہاد جس میں آپ محمدی بیگم کے خاوند کے تو بہ توڑنے کو اور اس کے بعد نکاح کو ضروری قرار دیتے تھے قابل حجت نہ رہا۔پس یہ پیشگوئی اپنی الہامی شرط کے مطابق ظہور پذیر ہوگئی۔مذکورہ بالا الہام ” بکر و ثیب “ کا اطلاق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کتاب ” نزول اسیح ย 66 (روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 524 525) میں حضرت ام المومنین نصرت جہاں بیگم پر کیا۔جس کا مطلب یہ تھا کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں جب آئیں گی کنواری ہوں گی ، مگر بیوہ رہ جائیں گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔علاوہ ازیں اس میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پہلے ہوگی اور آپ حضور علیہ السلام کی زندگی میں فوت نہ ہوں گی۔پس یہ پیشگوئی خدا تعالیٰ کی منشاء کے مطابق اور بعینہ الہام میں بیان شدہ الفاظ کی ترتیب ” بکر و تیب “ کے مطابق پوری ہوئی۔(4) مکہ اور مدینہ میں مرنے کی پیشگی اطلاع اس کی تفصیل یہ ہے کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے۔جس دن آپ کو یہ الہام ہوا