شیطان کے چیلے — Page 196
195 کروں گا بشرطیکہ تم اپنی لڑکی کا مجھ سے رشتہ کر دو اور یہ تمہارے اور میرے درمیان عہد و پیمان ہے جسے تم اگر قبول کرو گے تو مجھے بہترین قبول کرنے والا پاؤ گے۔اور اگر تم نے قبول نہ کیا تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ اس لڑکی کا کسی اور شخص سے نکاح نہ اس لڑکی کے حق میں مبارک ہوگا اور نہ تمہارے حق میں۔اور اگر تم اس ارادہ سے باز نہ آئے تو تم پر مصائب نازل ہوں گے اور آخری مصیبت تمہاری موت ہوگی اور تم نکاح کے بعد تین سال کے اندر مر جاؤ گے بلکہ تمہاری موت قریب ہے جو تم پر غفلت کی حالت میں وارد ہوگی اور ایسا ہی اس لڑکی کا شوہر بھی اڑ ہائی سال کے اندر مر جائے گا اور یہ قضائے الہی ہے۔پس تم جو کچھ کرنا چاہو کرو میں نے تمہیں نصیحت کر دی ہے۔“ (ترجمہ عربی عبارت۔آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 572,573 ) قارئین کرام ! جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ خدا تعالیٰ کو اس کی تو حید سب سے پیاری ہے اور اس کے بعد پھر وہ ذات سب سے پیاری ہوتی ہے جو اس دنیا میں اس کی توحید کی علمبر دار ہوتی ہے۔ان سب کے لئے وہ بیحد غیرت دکھاتا ہے۔اور جہانتک اس معاشرے کا تعلق ہے جس کی یہاں بحث ہو رہی ہے جس میں یہ خاندان تھا، تو اس میں ایک مرد کے لئے سب سے زیادہ جائے غیرت اس کے گھر کی عورت ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ کے کاموں کی حکمتیں تو وہی جانتا ہے لیکن اس جگہ جو حالات نظر آتے ہیں۔ان کے پیش نظر یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جس طرح ان لوگوں نے خدا تعالیٰ کی غیرت کو بھڑ کانے کے سامان کئے تھے بعینہ اسی طرح خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کی غیرت کی جگہوں کو ضرب لگائی تا کہ وہ نصیحت اور عبرت حاصل کریں اور توبہ کرتے ہوئے اس کی طرف رجوع کریں۔ان لوگوں نے چونکہ ذاتِ باری تعالیٰ اور محبوب باری تعالیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی شان میں گستاخیاں کی تھیں جن کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روح میں غیرت کا ایک الاؤ بھڑک رہا تھا۔آپ کے دل سے خدا تعالیٰ کی توحید کے لئے اور اپنے آقا ومولیٰ حضرت محمد مصطفی کے لئے ناموس کے لئے التجائیں اٹھتی تھیں۔بالآخر خدا تعالیٰ نے آپ کو الہاما یہ خبر دی كذبوا بآيتنا وكانوا بها يستهزء ون فسيكفيكهم الله و يردّها الیک لا تبدیل (اشتہار 10 جولائی 1888ء) لكلمات الله