شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 182 of 670

شیطان کے چیلے — Page 182

181 دیا جاتا ہے۔لیکن اگر وہ مشروط ہو اور جس شخص یا قوم سے وہ وعدہ ہو وہ اس شرط کو پورا نہ کرے جس شرط سے وہ مشروط ہے تو وہ پورا نہیں کیا جاتا یا اس میں اس وقت تک تاخیر ڈال دی جاتی ہے جب تک کہ مذکورہ شرط پوری نہیں کر دی جاتی۔قرآنِ کریم میں اس کی مثال حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے ذکر میں موجود ہے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں کنعان کی (مقدس) سرزمین دینے کا وعدہ دیا اور فرمایا يُقَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّوْا عَلَى أَدْبَارَكُمْ فَتَنْقَلِبُوا خَسِرِينَ (المائدة:22) ترجمہ:۔اے میری قوم! ارض مقدس میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ رکھی ہے اور اپنی پیٹھیں دکھاتے ہوئے مُڑ نہ جاؤ ورنہ تم اس حال میں لوٹو گے کہ گھاٹا کھانے والے ہو گے۔اس آیت کریمہ سے ظاہر ہے کہ یہ وعدہ پیٹھ نہ پھیر نے سے مشروط تھا۔چونکہ بنی اسرائیل نے یہ کہہ کر پیٹھ پھیر دی کہ " يمُوسَى اِن فِيْهَا قَوْمًا جَبَّارِيْنَ۔۔“ (المائدہ:23) ترجمہ :۔اے موسیٰ ! یقیناً اس میں ایک بہت سخت گیر قوم ہے۔"۔۔۔۔إِنَّا لَنْ نَدْخُلَهَا أَبَدًا مَّا دَامُوْا فِيْهَا فَاذْهَبْ أَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَهُنَا قَاعِدُوْنَ (المائدہ:25) ترجمہ :۔ہم تو ہر گز اس ( بستی ) میں کبھی داخل نہیں ہوں گے جب تک وہ اس میں موجود ہیں۔پس جا تو اور تیرا رب دونوں لڑو ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے وہ علاقہ ان پر چالیس برس کے لئے حرام کر دیا۔فرمایا فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِيْنَ سَنَةٌ يَتِيْهُوْنَ فِي الْأَرْضِ“ (المائده:27) で ترجمہ:۔پس یقیناً یہ ( ارض مقدس) ان پر چالیس سال تک حرام کر دی گئی۔وہ زمین میں مارے مارے پھریں گے۔یعنی ان کے منفی رویہ کی وجہ سے وہ وعدہ تاخیر میں ڈال دیا گیا۔ب:۔دوسری قسم کی پیشگوئیاں وعیدی ہیں۔جو ہمیشہ عدم عضو کی شرط سے مشروط ہوتی ہیں۔چنانچہ عقائد میں