شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 165 of 670

شیطان کے چیلے — Page 165

164 امر واقعہ یہ ہے کہ ان کے غلط عقیدہ کو احادیث نبویہ کی بالکل تائید حاصل نہیں ہے۔ایسی احادیث جن کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ وہ سید المرسلین خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ کو آخری نبی ثابت کرتی ہیں ، درحقیقت وہی احادیث مبارکہ آپ کو مقام و مرتبہ اور کمال کے لحاظ سے اور ایک بلند تر درجہ کےلحاظ سے آخری مقام پر فائز کرتی ہیں۔ایسا مقام و مرتبہ کہ جس کے آگے اور کوئی مقام نبوت نہیں۔چنانچہ احادیث مثلاً انی آخر الانبیاء “ اور ” لا نبی بعدی “ آپ کے اسی مقام اعلیٰ وارفع کو ثابت کرتی ہیں جس کا ایک نظارہ ہمیں آپ کے معراج میں نظر آتا ہے۔جب آپ تمام انبیاء کے مدارج سے سبقت لے جاتے ہوئے ایسے مقام پر پہنچ جاتے ہیں جہاں سب انبیاء مقام کے لحاظ سے آپ سے نیچے رہ گئے۔جس جگہ سے پھر الوہیت کی قوس شروع ہو جاتی ہے۔یہی مقام ہے جو ” آخر الانبیاء‘اور لا نبی بعدی میں مذکور اعلیٰ وارفع مقام بیان ہوا ہے۔یعنی آپ سب انبیاء کے مقابلہ میں سب سے آخری مقام پر ہیں جہاں آپ کے بعد نہ اور کوئی نبی ہے اور نہ ہی کوئی مقام نبوت۔اس سے آگے کوئی مقام ہے تو وہ مقامِ الوہیت ہے۔صرف بعثت کے لحاظ سے آپ کا سب سے آخر میں ہونا، یا زمانی لحاظ سے آپ کے بعد کسی اور نبی کا نہ آنا ایک ایسا نظریہ ہے جسے نہ احادیث نبویہ کی تصدیق حاصل ہے نہ تائید۔بلکہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے لے کر اب تک آئمہ سلف ، بزرگان امت اور علمائے دین اس نظریہ کور ڈ کرتے ہوئے ایک ایسے نبی کی آمد کی خبر دیتے ہیں جو اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کا امتی اور آپ کی شریعت کا تابع ہے۔یہ وہی مسیح موعود ہے جس کو خود آنحضرت ﷺ نے ایک ہی حدیث میں چار مرتبہ نبی الله “ قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہومسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال وصفته ومن معه ) اسی طرح اور احادیث میں بھی آپ نے الله امت میں آنے والے اس ایک نبی کی خبر دی۔پس یہ بات تو قطعی طور پر جھوٹی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد امت میں کوئی نبی نہیں آئے گا۔اسی غلطی کے امکان کو دور کرنے کے لئے کہ آنحضرت ﷺ کے بعثت کے لحاظ سے بعد اور کوئی نبی نہیں آئے گا، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ( معلمہ نصف الدین) فرماتی ہیں: " قولوا انه خاتم الانبياء ولا تقولوا لا نبی بعدہ۔“ 66