شیطان کے چیلے — Page 164
163 سکتا۔کیونکہ قرآن کریم کے اسرار و معارف اور رموز و حقائق ہر زمانہ میں الگ الگ ظاہر ہوتے ہیں۔نیز ہر مترجم اور مفسر کے علم ، پاکبازی ، تقومی تعلق باللہ اور عرفان کے لحاظ سے بھی اس کے معانی ومطالب بڑھ چڑھ کر جلوہ گری کرتے ہیں۔لیکن مذکورہ بالا راشد علی کے اس اعتراض کو سچا سمجھ لیا جائے تو امت میں نہ کوئی مفسر قرآن اس کی زد سے بچ سکتا ہے نہ ہی کوئی تفسیر قرآن۔حضرت امام رازی رحمتہ اللہ علیہ کی تفسیر کا رنگ اور ہے اور حضرت امام ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ کی تفسیر کا رنگ اور علی ھذا القیاس ہر تفسیر میں معانی ومطالب الگ الگ جلوہ گر ہیں۔پس یہ اعتراض ویسے ہی بالبداہت غلط اور جھوٹا ہے۔لیکن جہاں تک امت میں آنے والے مسیح و مہدی کے عرفان کا تعلق ہے اس کے بارہ میں حضرت مجد دالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی تنبیہہ راشد علی اور اس کے پیر وغیرہ کے لئے کافی روشنی کے سامان رکھتی ہے۔آپ فرماتے ہیں وو علمائے ظواہر مجتہدات اور اعلی نبینا وعلیہ الصلوة والسلام از کمال دقت و غموض ماخذ انکار نمائند و مخالف کتاب و سنت دانند (مکتوبات۔امام ربانی حضرت مجد دالف ثانی۔دفتر دوم۔حصہ ہفتم صفحہ 14 مکتوب نمبر 55) عجب نہیں کہ علمائے ظاہر حضرت عیسی علیہ السلام کے مجتہدات کا ان کے ماخذ کے کمال دقیق اور پوشیدہ ہونے کے باعث انکار کر جائیں گے اور انہیں کتاب وسنت کے مخالف جانیں۔“ ( ترجمه از: المکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی۔اردوترجمه دفتر دوم مطبوعه باهتمام ملک محمد عارف خان پرنٹر بن محمدی پریس لاہور ) حضرت مجد دالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول کے آئینہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیان فرموده معانی و معارف کا انتہائی درجہ دقیق ، گہرا اور بلند پایہ ہونا اور راشد علی وغیرہ کا ظاہر پرست اور پست خیال ہونا واضح طور پر ثابت ہوتا ہے پس ایک ظاہر پرست اور پست خیال انسان کا خدا تعالیٰ کے مامور، اور رسول اللہ ﷺ کی شریعت اور آپ کی ذات کے کمال درجہ عرفان کے حامل وجود پر اعتراض، ایک کوڑی کی بھی حیثیت نہیں رکھتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا علم اور عرفان ،اس کی پہنچ سے بالا ، دسترس سے ورے اور بساط سے باہر ہے۔لہذا اسے اس طرف رخ کرنا ہی مناسب نہ تھا۔ہے۔(1) کیا عقیدہ تم بہوت کو مستند احادیث کی تائید حاصل ہے؟ راشد علی کی یہ بات بھی جھوٹی ہے کہ ان کے نام نہاد عقیدہ ختم نبوت کو مستند احادیث کی تائید حاصل