شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 137 of 670

شیطان کے چیلے — Page 137

136 زمین و آسمان کا فرق ہے۔یہ فرق راشد علی کے فریب کا پول کھولتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کبھی بھی کسی کو گالی نہیں دی۔ہاں مخالفوں ہی کی گالیاں ان کو واپس لوٹائی ہیں یا ان کی گالیوں کا جواب اس لئے سخت الفاظ میں دیا ہے کہ جو زبان وہ آپ کے خلاف استعمال کرتے تھے، وہ خود بھی اس کی مرارت کا کسی قد رمزہ چکھ سکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے میں نے ایک لفظ بھی ایسا استعمال نہیں کیا جس کو دشنام دہی کہا جائے۔بڑے دھوکہ کی بات یہ ہے کہ اکثر لوگ دشنام دہی اور بیان واقعہ کو ایک ہی صورت میں سمجھ لیتے ہیں اور ان دونوں مختلف مفہوموں میں فرق کرنا نہیں جانتے بلکہ ایسی ہر ایک بات کو جو دراصل ایک واقعی امر کا اظہار ہو اور اپنے محل پر چسپاں ہو محض اس کی کسی قدر مرارت کی وجہ سے جو حق گوئی کے لازم حال ہوا کرتی ہے دشنام ہی تصور کر لیتے ہیں حالانکہ دشنام اور سب وشتم فقط اس مفہوم کا نام ہے جو خلاف واقعہ اور دروغ کے طور پر حض آزار رسانی کی غرض سے استعمال کیا جائے۔“ ii۔مولوی جھوٹے ہیں 66 (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 109 ) راشد علی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک اور عبارت میں تحریف کر کے اسے اور اپنے معنے پہنانے کی کوشش کی ہے۔راشد علی کی پیش کردہ وہ عبارت یہ ہے۔مولوی جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح مردار کھاتے ہیں۔“ (روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 309) قارئین کرام ! حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مکمل اور اصل عبارت حسب ذیل ہے۔آپ پادری عبداللہ آ نتم والی پیشگوئی کی تکذیب کرنے والے بعض مخصوص مولویوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔’اب ڈھونڈ و آتھم کہاں ہے۔کیا پیشگوئی کے الفاظ کے مطابق وہ قبر میں داخل نہیں ہوا۔کیا وہ ہاویہ میں نہیں گرایا گیا۔اے اندھو! میں کب تک تمہیں بار بار بتلاؤں گا کیا ضرور نہ تھا کہ خدا اپنی شرط کے موافق اپنے پاک الہام کو پورا کرتا۔آ ھم تو اسی وقت مر گیا تھا۔جب کہ میری طرف سے چار ہزار کے انعام کے ساتھ متواتر اس پر