شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 109 of 670

شیطان کے چیلے — Page 109

108 چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حقانیت اسلام کے متعلق بلحاظ اعلیٰ واکمل تعلیمات اور زندہ معجزات اتنی (80) سے زائد کتب تصنیف فرما ئیں اور ان تمام دلائل کا بالتفصیل ذکر فرمایا ہے۔پس وہ ارادہ بہر حال ایک اعلی رنگ میں پورا ہو گیا۔افسوس ہے کہ یہ لوگ جو قرآن کریم کی محکم کی آیات میں بھی نسخ کے قائل ہیں اور مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی بعض آیات کو بعض کے ذریعہ منسوخ کر دیا ہے وہ اتنی سی بات پر معترض ہورہے ہیں کہ حضرت اقدس نے براہین احمدیہ کی تکمیل کے متعلق جو ارادہ ظاہر فرمایا تھاوہ مزید وسعت اور جامعیت کے ساتھ کیوں پورا ہوا ، بعینہ اسی طرح ابتدائی رنگ میں کیوں سرانجام نہ پایا؟ روایت ہے: " عن مجاهد أنه قالت اليهود لقريش اسئالوه عن الروح وعن اصحاب الكهف وذى القرنين فسالوه فقال ائتونى غداً اخبركم ولم يستثن فابطا عنه الوحى بضعة عشر يوماً حتى شق عليه و كذبته قريش ( تفسیر کمالین۔برحاشیہ تفسیر جلالیں مجتبائی صفحہ 241) کہ قریش نے آنحضرت ﷺ سے ایک سوال کیا۔آپ نے فرمایا کل آؤ میں تم کو اس کا جواب بتاؤں گا۔آپ نے انشاء اللہ نہ کہا۔لیکن دس پندرہ دن گزر گئے اور اس بارہ میں آپ پر کوئی وحی نازل نہ ہوئی۔جس سے قریش نے آپ کی تکذیب کی (یعنی آپ کو خلاف وعدہ کا الزام دیا ) اور یہ بات آپ پر بہت شاق گزری۔بہت سے مفسرین اس واقعہ کو قتل کیا ہے اور بتایا ہے کہ چونکہ حضور ﷺ نے اس وعدہ کے وقت انشاء اللہ نہ کہا تھا اس لئے ایسا ہوا۔مانتے ہیں۔ہمیں اس واقعہ کی صحت کے متعلق کوئی بحث نہیں۔کیونکہ کثرت سے غیر احمدی علماء اسے درست پس کیا را شد علی اور اس کے ہمنوا کہیں گے کہ (نعوذ باللہ) رسول کریم ﷺ نے خلاف وعدہ کیا ؟ اگر یہ خلاف وعدہ نہیں اور یقینا نہیں کیونکہ اس کا سرانجام پانا اللہ کی مشیت پر موقوف تھا تو پھر برائلین احمدیہ کی تعمیل کا ارادہ ظاہر کرنے میں حضرت اقدس پر وعدہ خلافی کا الزام کیونکر عائد ہوسکتا ہے؟ اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ