شیطان کے چیلے — Page 85
85 الحقیقت خدا نے اسے بھیجا ہے کہ عربستان میں سچا دین مقرر کرے اور ان خواب و خیالات سے جو کبھی کبھی اسے دکھائی دیئے اپنے اس گمان کی تائید پائی۔غالبا بے خواب وخیالات صرع کی بیماری سے تھے جو عہدِ جوانی سے محمد کو لاحق تھی۔بعض مورخین نے اسے اٹھی کی بیماری کہا ہے چنانچہ کتاب ” انسان العیون“ میں مرقوم ہے کہ ابن اسحاق نے اپنے مشائخوں سے نقل کی ہے کہ نزول قرآن سے پہلے جن ایام میں کہ محمد کاملہ میں نظر بد کے رفع ہونے کا علاج کیا گیا اور جبکہ قرآن نازل ہوا تو پھر اس کی وہی حالت ہوئی یعنی کبھی کبھی ایک قسم کی بے ہوشی مثل اٹھی ایک خوف ولرزہ کے ساتھ اس کو ہوئی ایسا کہ انکھیں بند ہوگئیں اور منہ سے کف نکلی اور جوان اونٹ کی سی آواز دی۔پس ان حدیثوں کے مضمون کے مطابق شک نہیں کہ محمد کو صرع کی بیماری تھی۔( میزان الحق۔باب 3 فصل 4 صفحہ 326، 327) مصنفہ: پادری سی جی فانڈر در مطبع : امریکن مشن باہتمام پادری روڈ الف۔لدھیانہ۔1861ء) اسی قسم کے گندے جھوٹ اور طعن مستشرقین نے کثرت سے باندھے ہیں اور آنحضرت ﷺ سے اپنے اندرونی بغض کا اظہار کیا ہے۔ہم ہر ایک کا بیان درج کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ ہمارے لئے یہ امر تکلیف دہ ہے کہ ہم اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے بارہ میں ایسی باتیں لکھیں۔محض مجبوری کے تحت ایک دو حوالے پیش کئے ہیں تا کہ سنت مکفرین پر عمل کرنے والے آج کے انسان ان آئینوں میں انی شکل دیکھ سکیں اور شاید وہ اس سے کچھ سبق بھی حاصل کرسکیں۔یہ لوگ مذکورہ بالا اقتباس کے علاوہ اور بھی کئی کتب مثلاً پادری ٹھا کر د اس کی کتاب ” سیرت اسیح والحمد “ اور پادری ارونگ واشنگٹن کی کتاب ” سوانح عمری محمد صاحب وغیرہ میں بھی اپنی شکلیں دیکھ سکتے ہیں۔مذکورہ بالا آیت قرآنی کو سامنے رکھ کر ایک طرف پادریوں اور مستشرقین کے بیانات کو رکھیں اور دوسری طرف راشد علی اور اس کے پیر کے اعتراضات کو تو صاف نظر آتا ہے کہ اعتراض کرنے والے بھی ایک ہیں اور ان کی شکلیں بھی ایک۔اعتراض بھی وہی ہیں اور ان کے الفاظ بھی وہی۔وہ بھی ہرزہ سرائی اور یہ بھی بے با کی اور جھوٹ کی پوٹ۔ہاں صرف نام مختلف ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔بَل قَالُوا مِثلَ مَا قَالَ الاَوَّلُونَ (المومنون :82 ) کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ وہی بات کہتے ہیں جو ان سے پہلوں نے کہی تھی۔