شادی بیاہ کے گیت

by Other Authors

Page 8 of 57

شادی بیاہ کے گیت — Page 8

8 (از حضرت نواب مبارکه بیگم صاحبه ) (1) با والد ( حضرت مصلح موجود اور اللہ مرتا) یہ راحتِ جاں نور نظر تیرے حوالے یارب میرے گلشن کا شجر تیرے حوالے اک روٹھنے والی کی امانت تھی میرے پاس لخت دل خستہ جگر تیرے حوالے اب ظاہر میں اسے غیر کو میں سونپ رہا ہوں کرتا ہوں حقیقت میں مگر تیرے حوالے پہنے ہے یہ ایمان کا لعل " اخلاق کا زیور یہ الماس و گہر تیرے حوالے شاخ قلم کرتا ہوں پیوند کی خاطر اتنا تھا مرا کام شمر تیرے حوالے سنت تیرے مرسل کی ادا کرتا ہوں پیارے دلبند کو سینہ سے جدا کرتا ہوں پیارے