شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 96 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 96

i ۹۶ د یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے فیض سے اُن کا مقام رسالت کا ہوگا، لیکن اکثر لوگ اس ربا طنیت شرع) کی حقیقت سے واقف نہیں کیا علامہ موسی جار الله رو نے هُوَ الَّذِى بَعَثَ فِي الأمتين رَسُولًا مِنْهُمُ۔۔۔إلى واخَرِينَ مِنْهُم لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (سورۃ جمعہ کی تفسیر میں لکھا ہے :- معنى هَذِهِ الْآيَةِ الكَرِيمَةِ الثَّالِثَةِ هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي ō و الأمن رَسُولاً مِّنَ الْأُمِّيِّينَ وَبَعَثَ فِي الْآخَرِينَ رُسُلاً مِنْ أخَرِينَ فَكُلُّ أُمَّةٍ لَهَا رَسُولُ مِنْ نَفْسِهَا وهؤلاء الرُّسُلُ هُمْ رُسُلُ الْإِسْلَامِ فِي الْأُمَمِ مِثْلَ اشياء بني اسرائيل هُمْ رُسُلُ التَّوْرَايَةِ فِي بَنِي إسرائيل" داوائل السور من شائع کردہ بیت الحکمت ) ترجمہ : اس تیسری آیت کریمہ کے معنی یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ وہ ہے جس نے امتیوں میں ایک رسول امتیوں میں سے بھیجا ہے۔اور آخرین میں آخرین سے رسول بھیجے ہیں۔دینی بھیجنے مقدر کئے ہیں، میں آخرین کے ہر گہ وہ کا رسول خود آخرین میں ہے ہے۔اور یہ سب رسول ان گروہوں میں اسلام کے رسول ہیں۔جس طرح انبیاء بنی اسرائیل قوم بنی اسرائیل میں تورات کے رسول ہیں " یہ رسول آنحضرت کے ہی بروز اور فل ہیں۔موسی جار اللہ کے نزدیک یہ امتیوں میں سے عہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمہ اللہ علہ نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کے دو بعث قرار دیتے ہیں۔اور دوسرے بحث کے ثبوت میں آیت كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أخْرِجَتْ لِلنَّاسِ پیش کی ہے۔رحمة الله البالغة ملكا جلد اول مطبوعہ اصبح المطابع - کراچی )