شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 95
۹۵ الدِّينَ الَّذِي لَايُنحُ وَالشَّرُعَ الَّذِي لَا يَتَبَدَّلُ دَخَلَتِ الرُّسُلُ كُلّهُم فِي شَرِيعَتِهِ لِيَقُومُوا بِهَا فَلَا تَخْلُو الْأَرْمَنُ مِنْ رَسُولٍ في بجسمهِ إِذْ هُوَ قُطْبُ الْعَالَمِ الْإِنْسَانِي وَلَوْ كَانُوا اَنتَ رَسُولٍ فَإِنَّ الْمَقْصُودَ مِنْ هَؤُلَاءِ هُوَ الوَاحِدُ " اليواقيت والجواهر منه مبحث شام ) (٣) فَمَا زَالَ الْمُرْسَلُونَ وَلَا يَزَالُونَ فِي هَذِهِ الدَّارِ وَ الكِنْ مِنْ بَاطِنِيَّةِ شَرعِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ والكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ " الیواقیت والجواہر قت ۲ بلحاظ ایڈیشن مختلفہ مبحث (۴۵) ترجمه: دین جو منسوخ نہ ہوگا اور شرع جو تبدیل نہ ہو گی کو قائم کرنے کے بعد رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم وفات پاگئے تو اب تمام رسول آپ کی شریعت میں داخل ہو گئے تا اُسے قائم کریں۔دینی اب ایسا ریسول نہیں آسکتا جس کی غرض آپ کی شریعیت کی پیروی اور اُسے قائم کرنا نہ ہوا ہیں زمین کبھی مجسم زندہ رسول سے خالی نہ رہے گی۔خواہ ایسے رسول شمار میں ہزار بھی ہوں۔کیونکہ آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم عالم انسانی کے طلب ہیں اور ان رسولوں سے مقصود خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی واحد شخصیت ہے۔دایتی به رسول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کا ہی بروز ہوں گے) (۲) پس پہلے بھی رسول دنیا میں رہے اور آئندہ بھی اس دنیا میں رسولی رہیں گے۔لیکن یہ محمدصلی للہ علیہ سلم کی شریعیت کی باطنیت سے ہونگے