شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 80
۸۰ براہین سے اُسے مغلوب کر دیں گے۔نیز بُری عادات کا استیصال کریں گے اور اسوہ حسنہ نبوی کو قائم کریں گے۔آخری زمانہ کے مسلمانوں اور اُن کے علماء کی حالت کا نقشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وکم نے ان الفاظ میں کھینچا ہے :- يَات عَلَى النَّاسِ زَمَانُ لَا يَبْقَى مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُهُ ولا يبقى مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسُمُهُ مَسَاجِدُهُمْ عَامِرَةٌ وَهِيَ السَّمَاء خراب مِّنَ الهُدَى عُلَمَاءُ هُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ أَدِيمِ (مشكوة كتاب العلم ) یعنی لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اسلام نام کا رہ جائیگا۔اور قرآن کی صرف تحریر رہ جائے گی مسجدیں آباد ہوں گی مگر ہدایت کے لحاظ سے ویران ہوں گی۔کیونکہ اُن کے علماء آسمان کے نیچے سخت ترین ختنہ کا موجب ہوں گے۔جب یہ حال ہو تو امت کو ایک نبی کی ضرورت ہوئی جو بطور محکم و عدل است محمدیرمیں مبعوث ہو۔اور ایک طرف وہ امت محمدیہ کے عقائد کی اصلاح کرے تو دوسری طرف کسر صلیب کرے۔یعنی عیسائیت کا دلائل سے ابطال کرے اور عیسائیوں کے سامنے پر زور دلائل سے اُن کی کتابوں اور تواریخ کے رو سے ثابت کر دے کہ مسیح علیہ السلام نے صلیب پر جان نہیں دی۔اگر یہ کام کسی غیر نبی سے سرانجام پا سکتا تو آنحضر صلی الہ علیہ وسلم کو اس کے لئے ایک نبی کے آنے کی پیشگوئی کرتے کی کیا ضرورت تھی ؟ پس جب کامل شریعت قرآنیہ آجانے کے بعد بھی علماء آخری ن خاتم النبيين۔