شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 79
69 ظہور پر خاتم النبیین کی مہر کا اثر بصورت ہوتیت خلیہ بھی منقطع قرار دے دیا گیا ہے۔اسی لئے علماء ربانیین نے نبوت الولا بیت کو آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کی امت کے لئے باتی تسلیم کیا ہے۔اور شریعت کا ملہ آجانے کی وجہ سے صرف تشریعی نبوت کو منقطع قرار دیا ہے۔پیس نبوت الو نابیت مانتی کو کامل طور پر بھی مل سکتی ہے اور جزوی طور پر بھی۔غیر احمدی علماء ضرورت نبوت کے قائل ہیں جب غیر احمدی علماء حضرت عینی علی اسلام کا استری کی الہ علی و کم کے بعد ایسے زمانہ میں آنا مانتے ہیں کہ جب امت محمدیہ ۷۲ فرقوں میں متفرق ہوگی اور وہ اُمت محمدیہ میں بطور حكم و عدیل کے نازل ہوں گے تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ضرورت نبوت کو تسلیم کر لیا۔حضرت مسیح موعود کی پوزیشن از روئے احادیث نبوی یہ ہے :- ليو شكن ان ينْزِلَ فِيْكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمَا عَدْلًا يكسرُ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ " ر صحیح بخارهای جلد ۲ طلا مصری باب نزول عیسی ابن مریم ) مسیح موعود کی یہ حیثیت بتاتی ہے کہ وہ حکم و عدل ہوں گے اور کسر صلیب کرینگے اور تیل ختر بیر کریں گے۔اس سے ظاہر ہے کہ اس وقت مسلمان متفرق ہوں گے اور عقائد کے لحاظ سے افراط و تفریط کی راہ پر گامزن ہوں گے۔اور اُن کے علماء اور فقہاء انہیں اعتدلال پر نہیں لاسکیں گے۔اس لئے خدا تعالی کی طرف سے حکم و عدل بھیجا جانے کی ضرورت ہوگی۔نیز عیسائیت کو اس وقت دنیا میں غلبہ ہوگا اور سیم موجود دلائل و