شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 60
۶۰ حدیث اور اس کی مندرجہ بالا تشریح سے صحیح بخاری کی وہ حدیث بھی حل ہو جاتی ہے جس میں آنحضر من صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے اندر تیس دجالوں کذابوں کی خبر دی ہے جو مدعی نبوت ہوں گے۔صاف ظاہر ہے کہ وہ تیس دجال تشریعی یا مستقلہ نبوت کے مدعی ہوں گے۔اور ایسا ہی دعوئی خاتم الیقین کی آیت اور حدیث لا نبی بعدی کے منافی ہے۔کیونکہ خاتم النبیین کے حقیقی معنوں کے النی لوازم میں سے یہ معنے بھی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری شارع اور ستقل بنی ہیں۔غیر تشریعی نبوت کو محققین علماء اور اولیاء امت نے منقطع تسلیم نہیں کیا بلکہ شیخ اکبر حضرت محی الدین ابن عربی نے تو اسے قیامت تک جاری قرار دیا ہے۔صحیح بخاری کی اس حدیث میں خاتم النبیین کے ساتھ لا نبی بعدی کے الفاظ جو ہیں اس کے لئے اشارہ ہیں کہ اس جگہ خاتم النبین کے لازمی یعنی آخری کے اقوال سے لا نبی بعدی کے یہ معنی دیکھا چکا ہوں اور چونکہ لازمی معنے کسی حقیقی معنی کے تابع ہوتے ہیں اس لئے حقیقی معنے خاتم النبیین کے اور ہوں گے۔محل استدلال میں چونکہ اُن کے بیان کرنے کی ضرورت نہ تھی۔اس لئے حدیث میں صرف لازمی معنوں کی طرف لا نبيَّ بَعْدِي کے الفاظ سے اشارہ کر دیا گیا۔خاتم النبیین کے حقیقی معنی ایسا نبی ہیں جس کی مہر یا فیض کے واسطہ سے مقام نبوت حاصل ہو سکے۔ان معنوں کی تحقیق آپ آگے چل کر اس مضمون کے دوسرے حصہ میں معلوم کریں گے۔بطور امیر عام آخری مستقل نبی ہی مراد ہیں۔جیسا کہ میں بزرگوں