شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 59
۵۹ نبراس شرح الشرح العقائد نسفی میں یہ حدیث یوں درج ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :- " سيكون بعدِي ثَلَاؤُنَ كُلُّهُمْ يَدَّعِي أَنَّهُ نَبِيٌّ وَ انه لاني بَعْدِي إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ (نبراس ها ) کہ میرے بعد تیس آدمی ہوں گے۔اُن میں سے ہر ایک نبوت کا دعوی کرے گا۔اور میرے بعد کوئی نبی نہیں سوائے اُس بی کے جسے اللہ تعالیٰ چاہیے۔صاحب نبراس کہتے ہیں در صورت تسلیم الا کے استثناء کا تعلق حضرت عیسی علیہ السلام سے ہے۔مگر اس حدیث کے معنوں کے متعلق بنر اس کے حاشیہ پر لکھا ہے :- وَالْمَعْنى لا نَبِيَّ بِنُبُوَّةِ التَّشْرِيمِ بَعْدِي إِلَّا مَا شَاء الله مِنْ أنْبِيَاءِ الْأَوْلِيَاء " (حاشیه (۲۵) یعنی حدیث کے نقرہ لا نبی بعدی کے معنے یہ نہیں کہ میرے بعد شریعت والی نبوت نہیں ہے۔اور اِلَّا مَا شَاءَ اللہ سے مراد وہ انبیاء ہیں جو انبیاء الاولیاء ہیں۔یعنی جو اولیاء امت ہو کر مقام نبوت پانے والے ہیں ؟ گویا غیر تشریعی انبیاء کا آنا اس حدیث کے رو سے ممکن ہے۔اور آیت خانم النبیین کے منافی نہیں۔پس حديث لا نبی بعدی محققین علماء امت کے نزدیک صرف مستقل یا تشریعی نبی کے آنے ہیں روک ہے۔نہ کہ غیر تشریعی امتی نبی کی آمد میں غیر تشریعی امتی نبی کا استثناء تو خود احادیث نبوی سے ثابت ہو چکا ہے۔نیز اس کی اس