شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 55 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 55

۵۵ بھی نقی قرار دی گئی ہے۔مولوی محمد ادر میں صاحب کی یہ تشریح درست نہیں۔اور اس حدیث سے ہمارے عقیدہ پر کوئی زد نہیں پڑتی حضرت شاہ ولی اللہ صاحب علیہ الرحمہ محدث دہلوی کی طرح ہم تو اس حدیث کا تعلق غزوہ تبوک سے بغیر حاضری کے زمانہ اور صرف حضرت علی سے سمجھتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں :-۔باید دانست که مدلول این حدیث نیست الله استخلاف علی بر مدینه در غزوہ تبوک و تشبیه دادن این استخلاف با استخلاف موسی بارون را در وقت سفر خود بجانب طور - وسعنی بعدی این مجا غیری است چنانچه در آیت نَمَنْ يَهْدِيهِ مِنْ بَعْدِ الله گفته اند نه بعدیت زمانی - زیرا که حضرت ہارون بعد حضرت موسی نماندند تا ایشان را بعدیت زمانه ثابت بود۔و از حضرت مرتضی آنرا استثناء کنند۔پس حاصل این است که حضرت موسی در ایام غیبت خود حضرت ہارون را خلیفه ساخت و حضرت ہارون از ایل بیت حضرت موسی بودند و جامع بودند در نیابت و اصالت در نبوت و حضرت مرتضی امثل حضرت ہارون است در بودنِ اہلِ بیت پیغمبر و در نیابت نبوت بحسب احکام متعلقہ حکومت مدینه در اصالت نبوت " (قرة العينين في تفضيل الشيخين صفحه ۲۰۶ مصنفہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی)