شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 49 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 49

۴۹ منسوخ کرے یا آپ کی شریعیت میں کسی حکم کا اضافہ کرے۔اور یہی معنے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے کہ إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبوة قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِي وَلَا نبی کی کوئی ایسا نبی نہیں ہو گا جو میری شریعت کے خلاف شریعیت رکھتا ہو بلکہ جب بھی کوئی نبی ہو گا تو میری شریعت کے حکم کے ماتحت ہوگا۔اب دیکھئے اُم المومنین عائشہ الصدیقہ رضی اللہ عنہا۔نواب صدیق حسن خان صاحب اور حضرت امام محمد طاہر صاحب ، حضرت امام عبدالوہاب شعرانی اور حضرت محی الدین ابن عربی نے حدیث لا نبی بعدی کے رو سے صرف ایسے نبی کا آنا بند مانا ہے جو نئی شریعیت کا حامل ہو یا شریعت محمدی میں کوئی ترمیم یا تنفسی یا اضافہ کرنے والا ہو۔غیر تشریعی نبی کی آمد کو انہوں نے اس حدیث کے منافی نہیں سمجھا۔چنانچہ حضرت محی الدین ابن عربی نے تو صاف لفظوں میں فرما دیا ہے۔بَلُ إِذَا كَانَ يَكون تَحْتَ حُكْمِ شَرِيعَتِي " بلکہ جب کبھی نبی ہوگا تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعیت کے W تابع ہوگا۔انقطاع نبوت پر دلالت کرنے والی حدیثوں کی مندرجہ بالا تشریح حدیث نبوى لم يبقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَات کے عین مطابق ہے۔اس میں مبشرات والی نبوت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امت میں باقی قرار دیا ہے۔اور شریعت والی نبوت یا مستقلہ نبوت کو منقطع قرار دینے کے لئے لم یبق کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔پس انقطاع نبوت والی احادیث ! 1 1 k