شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 272
۲۷۲ از افکار یکریمی مولوی ظفر محمد صاح فاضل پر فیبر جاری کتاب شان خاتم النبیین" پڑھ کر میرا تاثر ! خطاب بحضر خاتم النبيين صلى الله عليه وسلم صاحب لولاک خستم الانبیاء مقتدائے انبیاء و اصفیاء تیری آمد سے ہے یہ عقدہ کھلا ارفع و اعلیٰ ہے تو بعد از خدا لا جرم ہے تو ہی ختم الانبیاء ده تو ہے سترہ ابتدائے زندگی تیری ہستی منتہا ئے زندگی سمجھ سے وابستہ بقائے زندگی تو محقیقی راہنمائے زندگی لا جرم ہے تو ہی ختم الانبیاء احمدیہ تیرے دم سے ہم ہوئے خیر الام تیرے بڑھنے سے بڑھا اپنا قدیم ہے ختم تیرے نام پرشان ختم تو ہی ختم الانبیاء تو سراپا خود ہے ابر کرم جرم ہے سابقین و لا حقین از انبیاء نقطۂ نفسی تیرا اُن کی ضیاء تیری خاتم سے انہیں منصب ملا، سب تیرے مظہر ہیں کے خیر الوری لا جرم ہے تو ہی ختم الانبیاء تجھ سے پہلے جس قدر تھے نامور تھے وہ جن جن خوبیوں سے بہرہ ور تو ہے جامع سب کا قصہ مختصر تیرے سرہے سہر فتح وظ لا جرم ہے تو ہی ختم الانبیاء ناک اور و معنو