شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 270 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 270

کے لئے آیت خاتم النبیین کی ایک لطیف تفسیر ہے۔اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت مطلقہ میں سے صرف المشبات کو باقی قرار دیا ہے۔اور نبوت کی دوسری اتمام نبوت تشریعیہ اور نبوت مستقلہ کو منقطع قرار دیا ہے۔اور المبشرات کو ثبوت میں سے قرار دے کہ بتا دیا ہے کہ یہ کوئی ادنی قسم کا مقام نہیں بلکہ جس شخص کو مبشرات والی وحی اور رویا صالحہ حاصل ہوں وہ ایک خاص حالت میں نسبی کہلانے کا مستحق بھی ہو سکتا ہے۔چنانچہ امت محمدیہ کے اندر آنے والے مسیح موعود کو رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم نے صحیح مسلم کی ایک حدیث میں جو خروج الدقبال کے باب میں مذکور ہے چار دفعہ نبی اللہ قرار دیا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ امت محمدیہ کے اندر آنے والے مسیح موعود کی نبوت سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف یہی ہے کہ وہ المبشرات کے حامل ہوں گے یعنی اللہ تعالیٰ ان کو بکثرت امور غیبیہ سے مطلع کرے گا۔کیونکہ جو بوت تمرین کے الفاظ سے منقطع ہو چکی ہے اس کا حامل است محمدیہ میں ظاہر نہیں ہو سکتا۔جو نبوت اس حدیث میں قیامت تک باقی قرار دی گئی ہے بیج موجود صرف اُسی کا حامل ہو سکتا ہے۔اور یہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان خاتم النبیین کا افاضہ اور برکت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ میں آپ کے ایک روحانی فرزند حضرت میرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو مسیح موعود قرار دے کر آپ کی پیروی کی برکت سے آپ کی ختم نبوت کی شان کے اقامہ کمال کو ظاہر کرنے کے لئے مقام نبوت سے سرفراز فرمایا ہے۔اور جرى اللهِ فِي حَلَلِ الانبیاء کا لقب عطا فرمایا ہے۔اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلَّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيداً